وزیراعظم یوتھ پروگرام اور یو این ویمن پاکستان نے ملک میں نوجوان خواتین کی قیادت، بااختیاری اور بامعنی سماجی شرکت کو فروغ دینے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدہ اسلام آباد میں وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان اور یو این ویمن پاکستان کے کنٹری نمائندے جمشید قاضی کے درمیان ملاقات کے دوران طے پایا۔
مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ادارے تکنیکی تعاون، معلومات اور تجربات کے تبادلے اور مشترکہ اقدامات کے ذریعے خواتین کی قیادت، نوجوانوں کی بااختیاری اور صنفی مساوات کے شعبوں میں شراکت بڑھائیں گے۔ منصوبہ نوجوان خواتین کو محض تربیتی سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے لیے ایسے مواقع پیدا کرنے پر مرکوز ہے جن سے وہ تعلیم، روزگار، کاروبار اور سماجی سرگرمیوں میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکیں۔
شراکت داری کے تحت رہنمائی یعنی مینٹورشپ، پیشہ ورانہ روابط، قیادت کی تربیت اور عملی تجربے کے مواقع فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ بالخصوص کاروباری صلاحیت، ملازمت کے امکانات اور شہری معاملات میں شرکت کو ترجیحی میدان قرار دیا گیا ہے۔ یہ شعبے نوجوان خواتین کو اپنے پیشہ ورانہ اہداف واضح کرنے، متعلقہ اداروں سے رابطہ بڑھانے اور فیصلہ سازی کے عمل میں اپنی آواز مضبوط بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
پاکستان میں نوجوان خواتین کی بڑی تعداد تعلیم اور ہنر حاصل کرنے کے باوجود ملازمت، مالی وسائل، پیشہ ورانہ نیٹ ورک اور رہنمائی تک محدود رسائی کا سامنا کرتی ہے۔ نئی شراکت داری اس خلا کو کم کرنے کے لیے سرکاری یوتھ پروگرام کے دائرۂ کار اور یو این ویمن کی صنفی مساوات سے متعلق مہارت کو یکجا کرنے کی کوشش ہے۔ اگر مشترکہ سرگرمیاں مستقل بنیاد پر نافذ ہوئیں تو مختلف علاقوں اور سماجی پس منظر سے تعلق رکھنے والی خواتین کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
اعلان میں پروگرام کے مالی حجم، استفادہ کرنے والی خواتین کی حتمی تعداد، صوبہ وار اہداف یا آغاز کی مقررہ تاریخ کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔ اس لیے معاہدے کی حقیقی کامیابی کا اندازہ آئندہ عملی منصوبوں، انتخاب کے شفاف طریقۂ کار، جغرافیائی رسائی اور قابلِ پیمائش نتائج سے ہوگا۔ تربیت کے ساتھ ملازمت، کاروباری معاونت اور ادارہ جاتی مواقع سے حقیقی ربط بھی اہم ہوگا۔
یہ معاہدہ نوجوانوں سے متعلق پالیسی میں خواتین کی مخصوص ضروریات کو نمایاں کرتا ہے۔ دونوں اداروں کے درمیان مربوط کام سے خواتین کے لیے محفوظ، قابلِ رسائی اور نتیجہ خیز پلیٹ فارم تشکیل پانے کی توقع کی جارہی ہے، جبکہ پیش رفت کی باقاعدہ رپورٹنگ سے عوام کو یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ وعدے کس حد تک عملی مواقع میں تبدیل ہوئے۔




