ایبٹ آباد: ہزارہ موٹروے پر حویلیاں انٹرچینج کے قریب جمعہ کی صبح ایک مسافر بس اور ڈمپر ٹرک کے درمیان تصادم میں کم از کم آٹھ افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہوگئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق بس گلگت سے راولپنڈی جا رہی تھی جب حادثہ پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ بس کا ٹائر پھٹنے کے بعد ڈرائیور گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا اور بس ڈمپر سے جا ٹکرائی۔ حادثے کی حتمی وجہ متعلقہ حکام کی تفتیش کے بعد واضح ہوگی۔
ڈان کے مطابق ریسکیو 1122 ایبٹ آباد نے اطلاع ملنے کے بعد سات ایمبولینسیں اور ایک ریسکیو گاڑی جائے حادثہ پر روانہ کی۔ امدادی کارروائی ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افسر حفیظ الرحمان کی نگرانی میں کی گئی۔ ریسکیو اہلکاروں نے زخمیوں کو موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور بعد ازاں انہیں مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا۔
حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والے آٹھ افراد کا تعلق گلگت سے بتایا گیا ہے۔ ایک میت ٹائپ ڈی ہسپتال حویلیاں، چار میتیں ایوب میڈیکل کمپلیکس اور تین میتیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ایبٹ آباد منتقل کی گئیں۔ تمام 30 زخمی مسافروں کو علاج کے لیے ایوب میڈیکل کمپلیکس لے جایا گیا۔ زخمیوں میں پانچ بچے اور چھ خواتین بھی شامل ہیں، جبکہ چار افراد کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
حادثے کے فوراً بعد امدادی ٹیموں کی ترجیح زخمیوں کو بس اور جائے حادثہ سے نکالنا، ابتدائی طبی امداد دینا اور ہسپتال پہنچانا تھی۔ موٹروے پر پیش آنے والے اس نوعیت کے حادثات میں گاڑی کی فنی حالت، ٹائر، رفتار، ڈرائیور کے ردعمل اور سڑک کی صورتحال سمیت متعدد عوامل کی جانچ ضروری ہوتی ہے۔ اس واقعے میں ٹائر پھٹنے کی اطلاع ابتدائی رپورٹ کا حصہ ہے اور اسے مکمل تحقیقات سے پہلے قطعی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہ حادثہ ایک روز قبل پاکپتن کے قریب پیش آنے والے ایک الگ بس اور ٹرک تصادم کے بعد سامنے آیا، جس میں 11 افراد کی جان گئی اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ گزشتہ ہفتے حافظ آباد میں بھی ایک مسافر بس نالے میں گرنے سے پانچ افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ مسلسل حادثات نے بین الاضلاعی اور طویل فاصلے کی مسافر گاڑیوں کی فٹنس، ٹائروں کی حالت، ڈرائیونگ اوقات اور روڈ سیفٹی نگرانی کی اہمیت دوبارہ نمایاں کی ہے۔
ریسکیو حکام کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق حویلیاں حادثے میں زخمیوں کی طبی نگرانی جاری ہے۔ جاں بحق افراد کی شناخت اور میتوں کی ورثا تک منتقلی کے عمل سے متعلق مزید تفصیلات متعلقہ ضلعی اور ہسپتال حکام جاری کر سکتے ہیں۔ حادثے کے اسباب سے متعلق کسی ذمہ داری کا تعین پولیس، موٹروے حکام یا دیگر متعلقہ اداروں کی باضابطہ تحقیقات کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔
