اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں 12 اکتوبر یا اس کے بعد آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت پشاور ہائیکورٹ میں دائر مقدمات کی کارروائی معطل کردی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی 6 نومبر کی رپورٹ کے مطابق یہ حکم خیبرپختونخوا حکومت کی درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیا گیا، جس میں صوبائی حکومت نے پشاور ہائیکورٹ کے ان عبوری احکامات کو چیلنج کیا تھا جو مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت حراست میں لیے گئے متعدد پی ٹی آئی کارکنوں کی رہائی سے متعلق تھے۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل دو رکنی بینچ نے چار صفحات پر مشتمل حکم جاری کیا۔ عدالت نے خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل کو سات روز کے اندر ایسی جگہوں کے بارے میں رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی جہاں مسلح افواج کی سول انتظامیہ کی مدد کے لیے موجودگی اب ضروری نہ ہو۔ عدالت نے عندیہ دیا کہ رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد موجودہ حکم میں مناسب تبدیلی پر غور کیا جا سکتا ہے۔

یہ عدالتی پیش رفت صوبے میں امن و امان، انتظامی اختیارات اور آئینی عدالتوں کے دائرۂ اختیار کے باہمی تعلق سے جڑی ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکم سے ان مقدمات پر بھی اثر پڑتا ہے جن میں مینٹیننس آف پبلک آرڈر کے تحت حراست میں لیے گئے پی ٹی آئی کارکنوں نے اپنی حراست کو چیلنج کیا تھا۔ تاہم زیر سماعت معاملات میں کسی فرد کے خلاف الزامات یا حراست کی قانونی حیثیت پر حتمی فیصلہ اس عبوری حکم سے اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

صوبائی حکومت کی درخواست کا مرکزی نکتہ پشاور ہائیکورٹ کے عبوری احکامات اور اس قانونی صورت حال سے متعلق ہے جو مسلح افواج کی سول پاور کی معاونت کے لیے تعیناتی کے بعد پیدا ہوئی۔ وفاقی آئینی عدالت نے فی الحال کارروائی روکنے کا حکم دیا ہے، جبکہ صوبائی حکومت سے زمینی صورت حال کی تفصیلی رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر عدالت آئندہ سماعت میں یہ طے کر سکتی ہے کہ حکم کا اطلاق کن علاقوں یا مقدمات تک برقرار رہنا چاہیے۔

عدالتی حکم کی عملی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ پشاور ہائیکورٹ میں زیر سماعت متعدد درخواستیں شہریوں اور سیاسی کارکنوں کی حراست سے متعلق بتائی گئی ہیں۔ قانونی ماہرین کے لیے اہم سوال یہ ہوگا کہ وفاقی آئینی عدالت کے حکم کے بعد ان درخواستوں کی سماعت کس فورم اور کس طریقۂ کار کے تحت آگے بڑھے گی۔ اس مرحلے پر عدالت نے بنیادی تنازع کا حتمی فیصلہ نہیں سنایا بلکہ کارروائی معطل کرکے اضافی سرکاری معلومات طلب کی ہیں۔

سات روز میں طلب کی گئی رپورٹ آئندہ عدالتی کارروائی کا اہم حصہ ہوگی۔ اس لیے موجودہ حکم کو پشاور ہائیکورٹ کے تمام اختیارات کے مستقل خاتمے یا زیر حراست افراد کے مقدمات کے حتمی فیصلے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ اگلا مرحلہ صوبائی ایڈووکیٹ جنرل کی رپورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کی اس پر ہونے والی سماعت سے واضح ہوگا۔