لاہور: لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے لاپتا لڑکیوں کی بازیابی سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کے دوران پولیس افسران کی جانب سے ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے اور سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے لاپتا لڑکیوں کی بازیابی کے لیے قائم کمیٹی کی کارکردگی پر بھی عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس عبد الکریم کو 11 نومبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

ڈان کے مطابق چیف جسٹس ایک خاتون سلمیٰ بی بی کی درخواست کی سماعت کر رہی تھیں، جس میں انہوں نے اپنی مبینہ طور پر لاپتا بیٹی کی بازیابی کی استدعا کی تھی۔ سماعت کے دوران پنجاب ڈی آئی جی کرائمز علی جانباز اور ڈی آئی جی لیگل اویس ملک سمیت پولیس حکام عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ سرکاری وکیل نے اغوا اور بازیابی سے متعلق مقدمات کی رپورٹ جمع کرائی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ پولیس اب تک 2,810 لڑکیوں کو بازیاب کرا چکی ہے، جبکہ 452 لڑکیاں بدستور لاپتا ہیں۔ رپورٹ کے مطابق زیر التوا مقدمات میں چار کیس 2021 سے چلے آ رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے پرانے مقدمات کے طویل عرصے تک حل نہ ہونے پر سوال اٹھایا اور واضح کیا کہ کئی برس تک انتظار کو معمول نہیں بنایا جا سکتا۔

پولیس افسران نے عدالت کو بتایا کہ ایک سوشل میڈیا ایپلی کیشن نے متعدد لاپتا لڑکیوں کا سراغ لگانے میں مدد دی۔ تفتیشی ونگ کے ایک افسر کے مطابق زیادہ تر زیر التوا کیس راولپنڈی، سیالکوٹ اور ننکانہ صاحب سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے اور اپ لوڈ کرنے کے معاملے پر متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

چیف جسٹس نے پولیس کی توجہ بنیادی تفتیشی ذمہ داریوں کی طرف دلاتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر افسران غیر متعلقہ سوشل میڈیا سرگرمیوں میں مصروف ہوں تو لاپتا افراد کی تلاش کیسے مؤثر انداز میں ہوگی۔ عدالت کا یہ مشاہدہ کسی اہلکار کے خلاف حتمی محکمانہ سزا یا قانونی جرم کا فیصلہ نہیں، بلکہ زیر سماعت معاملے میں پولیس کارکردگی اور ترجیحات سے متعلق عدالتی تشویش ہے۔

لاپتا بچوں اور خواتین کے مقدمات میں ہر کیس کے حالات مختلف ہو سکتے ہیں اور پولیس ریکارڈ میں اغوا، گھر چھوڑنے، خاندانی تنازعات یا دیگر وجوہات سے متعلق الگ الگ حقائق سامنے آ سکتے ہیں۔ اسی لیے 452 زیر التوا کیسوں کو کسی ایک وجہ یا جرم سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے موجودہ درخواست میں پولیس کی مجموعی پیش رفت، پرانے کیسوں اور بازیابی کے طریقہ کار پر جواب طلب کیا ہے۔

مزید سماعت 11 نومبر تک ملتوی کردی گئی ہے۔ اس روز پنجاب پولیس کے سربراہ کی پیشی کے بعد عدالت کو متوقع طور پر زیر التوا مقدمات، کمیٹی کی کارکردگی اور پولیس کے آئندہ اقدامات سے متعلق مزید تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔