اسلام آباد: پاکستان اور برطانیہ نے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیتے ہوئے سکیورٹی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون، ہجرت، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت متعدد شعبوں میں روابط مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں برطانیہ کے وزیر مملکت برائے سکیورٹی ڈین جاروس سے ملاقات کی، جس میں موجودہ دوطرفہ تعاون کے ساتھ علاقائی اور عالمی پیش رفت بھی زیر بحث آئی۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں فریقوں نے باہمی دلچسپی کے امور پر مسلسل رابطے کی اہمیت پر زور دیا اور R4 + E4 فریم ورک کے تحت مزید ملاقاتوں کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دوطرفہ معاملات اور مشترکہ دلچسپی کی علاقائی پیش رفت پر تعاون جاری رہنا اہم ہے۔ ملاقات میں کسی نئے معاہدے کی حتمی منظوری یا مخصوص مالی حجم کا اعلان نہیں کیا گیا، بلکہ تعاون کے موجودہ دائرے کو مزید گہرا کرنے پر سیاسی اتفاق سامنے آیا۔

یہ ملاقات پاکستان اور برطانیہ کے سالانہ دوطرفہ انسداد دہشت گردی مذاکرات کے بعد ہوئی۔ دفتر خارجہ کے مطابق ان مذاکرات میں دونوں ملکوں نے علاقائی اور عالمی سلامتی کے بدلتے ماحول اور سرحد پار سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس سے لاحق خطرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ پاکستانی بیان میں افغانستان سے سرگرم گروہوں، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان، سے متعلق خدشات کا ذکر کیا گیا اور ایک مستحکم اور محفوظ افغانستان کو خطے میں دیرپا امن اور خوشحالی کے لیے ضروری قرار دیا گیا۔

پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات میں سکیورٹی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور ہجرت کے معاملات بھی مستقل اہمیت رکھتے ہیں۔ تازہ ملاقات میں ان شعبوں کو ایک ہی دوطرفہ ایجنڈے میں شامل کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں حکومتیں تعلقات کو صرف انسداد دہشت گردی تک محدود رکھنے کے بجائے وسیع ادارہ جاتی تعاون کی سمت لے جانا چاہتی ہیں۔ تاہم عملی نتائج کا انحصار آئندہ مذاکرات، متعلقہ وزارتوں کے فیصلوں اور کسی ممکنہ باقاعدہ معاہدے یا پالیسی اقدام پر ہوگا۔

ڈان کی 6 نومبر 2026 کی رپورٹ نے دفتر خارجہ کے بیان کی بنیاد پر اس پیش رفت کی تفصیلات شائع کیں۔ موجودہ مرحلے پر اسے تعاون بڑھانے کے باہمی عزم کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے؛ کسی مخصوص تجارتی رعایت، سرمایہ کاری منصوبے یا ہجرت پالیسی میں فوری تبدیلی کا اعلان اس ملاقات میں نہیں کیا گیا۔