کراچی: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے کراچی میں ایک کال سینٹر پر کارروائی کے دوران 273 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی 6 نومبر کی رپورٹ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی ایک ایسے کال سینٹر کے خلاف کی گئی جس پر آن لائن اور سائبر فراڈ سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا شبہ تھا۔ گرفتار افراد میں 42 کم عمر افراد بھی شامل بتائے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق این سی سی آئی اے نے کارروائی کے دوران کمپیوٹرز، مواصلاتی آلات اور دیگر مواد بھی تحویل میں لیا، جس کا فرانزک اور تفتیشی جائزہ لیا جانا ہے۔ حکام کے مطابق زیر تفتیش سرگرمیوں میں بیرون ملک افراد سے رابطہ کرکے انہیں مالی نقصان پہنچانے کے طریقے استعمال کیے جانے کا شبہ ہے۔ تاہم یہ دعوے تفتیشی ادارے کے الزامات ہیں اور گرفتار افراد کے خلاف جرم ثابت ہونے کا حتمی عدالتی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
اتنی بڑی تعداد میں گرفتاریوں کے باعث معاملے میں ہر ملزم کے کردار، عمر اور ممکنہ ذمہ داری کا الگ تعین اہم ہوگا۔ خصوصاً کم عمر افراد کی موجودگی کی اطلاع کے بعد ان کے قانونی تحفظ اور متعلقہ جووینائل قوانین کے اطلاق کا سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ کسی کال سینٹر میں موجود ہونا بذات خود کسی مخصوص سائبر جرم میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں، اس لیے تفتیش میں ڈیجیٹل ریکارڈ، مالی لین دین اور انفرادی کردار کی جانچ بنیادی اہمیت رکھے گی۔
پاکستان میں سائبر فراڈ اور آن لائن مالی جرائم کے خلاف کارروائیوں کی ذمہ داری حالیہ برسوں میں خصوصی اداروں اور وفاقی تحقیقاتی ڈھانچے کے ذریعے بڑھائی گئی ہے۔ این سی سی آئی اے کی یہ کارروائی بھی اسی وسیع تناظر میں سامنے آئی ہے، جس میں مبینہ طور پر منظم کال سینٹرز، جعلی آن لائن شناختوں اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے غلط استعمال کی تحقیقات کی جاتی ہیں۔ ایسے مقدمات میں ضبط شدہ ڈیجیٹل آلات سے حاصل ہونے والا مواد عام طور پر تفتیش کے اگلے مراحل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
رپورٹ میں حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ گرفتار افراد سے پوچھ گچھ اور برآمد شدہ مواد کا جائزہ جاری ہے۔ اس مرحلے پر مبینہ متاثرین کی مکمل تعداد، مالی نقصان کا حتمی تخمینہ اور ہر گرفتار شخص کے خلاف مخصوص الزام کی تفصیل واضح نہیں کی گئی۔ لہٰذا کارروائی کو گرفتاری اور تفتیش کے مرحلے کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ تمام گرفتار افراد کے خلاف جرم ثابت ہونے کے طور پر۔
مزید پیش رفت میں عدالت کے سامنے ملزمان کی پیشی، ریمانڈ یا ضمانت سے متعلق فیصلے اور ڈیجیٹل شواہد کی جانچ اہم ہوں گے۔ تفتیشی ادارے کو ہر ملزم کے خلاف قابل قبول شواہد پیش کرنا ہوں گے، جبکہ گرفتار افراد کو قانون کے تحت دفاع اور منصفانہ سماعت کے حقوق حاصل رہیں گے۔
