لندن/کراچی: مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور سمندری راستوں پر بڑھتے خطرات کے دوران آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت 10 ستمبر کو صرف سات جہازوں تک محدود رہی، جو حالیہ اوسط اور جنگ سے پہلے کی سطح سے نمایاں طور پر کم ہے۔ رائٹرز نے جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ اس محدود ٹریفک کے دوران قطر انرجی سے منسلک ایک ایل این جی جہاز نے پاکستان کو گیس کی کھیپ بھی پہنچائی۔

رپورٹ کے مطابق 10 ستمبر کو ہرمز سے گزرنے والے سات جہازوں میں مختلف حجم کے مال بردار جہاز اور ایک درمیانے درجے کا ٹینکر شامل تھے۔ یہ تعداد گزشتہ دس دن کی روزانہ اوسط تقریباً 15 جہازوں سے بھی کم ہے، جبکہ ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے اس اہم آبی گزرگاہ سے روزانہ تقریباً 125 کموڈٹی جہاز گزرتے تھے۔ ایسے جہاز جو حفاظتی وجوہات سے اپنے ٹرانسپونڈر بند رکھتے ہیں، دستیاب ٹریکنگ اعداد میں شامل نہ بھی ہوں، اس لیے یہ اعداد صرف قابلِ مشاہدہ نقل و حرکت کی عکاسی کرتے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق قطر انرجی سے منسلک تین ایل این جی جہاز — الغشامیہ، الداین اور المرونہ — ہرمز کے علاقے میں ٹریک کیے گئے۔ المرونہ نے پاکستان میں ایل این جی کارگو اتارا، جسے جولائی کے بعد قطر سے منسلک کسی ٹینکر کے ذریعے پاکستان پہنچنے والی پہلی معلوم کھیپ قرار دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کے لیے اہم ہے کیونکہ ملک بجلی اور صنعتی استعمال کے لیے درآمدی ایل این جی پر انحصار کرتا ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتی ہے اور جنگ سے پہلے دنیا کی روزانہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی رسد کا تقریباً پانچواں حصہ اس راستے سے گزرتا تھا۔ ایران جنگ اور بعد میں امریکی بحری ناکہ بندی نے تجارتی جہاز رانی، بیمہ، راستوں کے انتخاب اور توانائی کی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔

اسی دوران باب المندب کے اطراف بھی سکیورٹی خطرات بڑھے ہیں، جہاں یمن کے ایران سے منسلک حوثی گروپ کی پیش قدمی نے بحیرہ احمر کے راستے پر نئی تشویش پیدا کی ہے۔ رائٹرز کے مطابق 10 ستمبر کو باب المندب سے 26 جہاز گزرے، جو حالیہ اوسط کے قریب تھے، مگر خطے میں فوجی پیش رفت کے باعث مستقبل کی آمدورفت کے بارے میں غیر یقینی برقرار ہے۔

پاکستان کو ایل این جی کھیپ پہنچنا ایک تصدیق شدہ تجارتی نقل و حرکت ہے، لیکن اسے ہرمز میں معمول کی جہاز رانی بحال ہونے کی علامت نہیں سمجھا جا سکتا۔ دستیاب اعداد کے مطابق مجموعی ٹریفک اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے بہت نیچے ہے اور توانائی منڈیوں کے لیے رسد کا خطرہ برقرار ہے۔