سعودی عرب کے جنوبی حصے میں یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں میں چار شہروں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں سعودی حکام کے مطابق 73 افراد زخمی ہوئے اور بعض توانائی تنصیبات پر آگ لگ گئی۔ رائٹرز کے مطابق حملے خمیس مشیط، ابہا، نجران اور جازان کے علاقوں میں ہوئے اور ان میں تیل و توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ایک فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔
سعودی وزارت توانائی نے حملوں کو خطرناک کشیدگی قرار دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ تنصیبات پر حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور توانائی کی فراہمی برقرار رکھنے کی کوشش جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق جازان میں ایک ریفائنری اور ابہا میں تیل کی تقسیم سے متعلق ایک مرکز پر آگ کے آثار دیکھے گئے۔ سعودی حکام نے زخمیوں میں خواتین اور بچوں کی موجودگی بھی بتائی، تاہم فوری طور پر کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی۔
حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی یمن میں سعودی حملوں کے جواب میں کی گئی۔ سعودی قیادت والے اتحاد نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے حملوں کو دہشت گردی قرار دیا اور سخت ردعمل کا عندیہ دیا۔ دونوں فریقوں کے دعوے جنگی حالات میں سامنے آئے ہیں، اس لیے نقصان اور اہداف کی تمام تفصیلات آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تصادم پہلے ہی تیل کی ترسیل اور خلیجی سکیورٹی پر دباؤ بڑھا چکا ہے۔ حوثی گروپ ایران کا اتحادی سمجھا جاتا ہے، جبکہ سعودی عرب یمن میں حوثیوں کے خلاف مخالف دھڑے کی حمایت کرتا رہا ہے۔ حالیہ حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا اور برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا۔
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حالیہ کشیدگی یمن کے محاذ پر بھی بڑھ رہی ہے، جہاں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد مختلف علاقوں میں دوبارہ لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز نے حوثی زیر قبضہ علاقوں کی طرف پیش قدمی کی ہے، جبکہ حوثی گروپ نے جولائی سے سعودی عرب کے خلاف بحری اور میزائل کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔ تازہ حملے اس تنازع کو براہ راست سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے تک لے آئے ہیں، جس سے علاقائی سکیورٹی اور عالمی تیل منڈی دونوں کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔




