ریاض: سعودی عرب کی بعض توانائی تنصیبات پر یمن کے حوثیوں کے حملوں کے بعد منگل کو آپریشنز متاثر ہوئے، جبکہ سعودی حکام کے مطابق مختلف مقامات پر مجموعی طور پر 73 شہری زخمی ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ سعودی وزارت خارجہ نے جنوبی شہروں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی مقامات کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے خطرناک کشیدگی قرار دیا۔

سعودی وزارت توانائی کے مطابق حملوں کے بعد بعض مقامات پر آگ لگی اور ہنگامی و فائر فائٹنگ ٹیموں نے صورتحال پر قابو پانے اور نقصان کا جائزہ لینے کے لیے کارروائی کی۔ وزارت نے کہا کہ متعلقہ ادارے تنصیبات اور کارکنوں کی حفاظت یقینی بنانے اور منظور شدہ آپریشنل منصوبوں کے مطابق کام جاری رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔ دستیاب معلومات میں تمام متاثرہ تنصیبات کے نقصان کی مکمل تفصیل فوری طور پر سامنے نہیں آئی۔

سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ ملک اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرے گا اور حوثیوں سے کشیدگی اور جہاز رانی پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے مزید کارروائیوں کا عندیہ دیا اور سعودی عرب پر یمن میں فضائی حملوں کے ذریعے کشیدگی بڑھانے کا الزام لگایا۔ سعودی قیادت والے اتحاد نے حالیہ ایسے فضائی حملوں کا اعلان نہیں کیا، جبکہ یمن کی سرکاری افواج نے حالیہ دنوں میں حوثیوں کے خلاف مختلف محاذوں پر کارروائیاں کی ہیں۔ فریقین کے باہمی دعوؤں کو الگ الگ منسوب کرنا ضروری ہے کیونکہ جنگی حالات میں تمام دعووں کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں ہوتی۔

حملوں کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ سعودی وزارت توانائی کے بیان کے بعد برینٹ خام تیل تقریباً 98 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 93.65 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب وسیع تر مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پہلے ہی توانائی منڈی اور جہاز رانی کے راستوں پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ دفتر خارجہ نے بھی الگ بیان میں حملوں کو سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا اور بین الاقوامی قانون کے مطابق سعودی عرب کے اپنی سرزمین، شہریوں اور قومی اثاثوں کے تحفظ کے حق کی حمایت کی۔ موجودہ رپورٹ میں زخمیوں کی تعداد اور تنصیبات پر اثرات سعودی سرکاری حکام کے بیانات پر مبنی ہیں، جبکہ حوثیوں کے فوجی دعووں کو ان کے اپنے مؤقف کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔