کیف: روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر بیلسٹک اور دیگر میزائلوں سے حملے کیے، جن میں یوکرینی حکام کے مطابق کم از کم پانچ افراد ہلاک اور تقریباً 30 زخمی ہوئے۔ رائٹرز کے مطابق حملوں سے رہائشی عمارتوں، ایک اسکول، کلینک، طلبہ کی رہائش گاہ، گوداموں اور ایک ٹی وی اسٹیشن سمیت متعدد شہری مقامات کو نقصان پہنچا۔

کیف حکام نے بتایا کہ شہر کے مختلف حصوں میں ملبہ گرنے اور براہ راست حملوں سے آگ لگی اور امدادی ٹیموں نے متاثرہ عمارتوں سے لوگوں کو نکالا۔ یوکرین کی فضائیہ کے مطابق فضائی دفاع نے متعدد میزائلوں کو روکا، تاہم بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچ گئے۔ زخمیوں کی حتمی تعداد میں تبدیلی ممکن ہے کیونکہ ریسکیو آپریشن جاری رہا۔

یہ حملے ایسے وقت ہوئے جب امریکی نمائندے جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف امن کوششوں کے سلسلے میں کیف اور ماسکو کے دورے کے بعد خطے سے روانہ ہوئے تھے۔ ان کے دورے کے دوران دارالحکومت پر نسبتاً خاموشی رہی، لیکن ان کی روانگی کے بعد روسی حملے دوبارہ شروع ہو گئے۔ یوکرینی وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے اتحادی ممالک سے مزید فضائی دفاعی اور میزائل شکن نظام فراہم کرنے کی اپیل کی۔

یوکرینی حکومت نے کہا کہ روسی حملے صرف کیف تک محدود نہیں رہے بلکہ کم از کم آٹھ دیگر علاقوں میں بھی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ سومی اور زاپورژژیا کے علاقوں میں ریل نیٹ ورک اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ روسی وزارت دفاع نے کہا کہ اس نے فوجی اور لاجسٹک اہداف کو نشانہ بنایا اور شہریوں کو ہدف بنانے کی تردید کی۔ جنگی حالات میں دونوں فریقوں کے بعض دعووں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہوتی۔

روس اور یوکرین کے درمیان زمینی محاذ پر حالیہ مہینوں میں بڑی تبدیلی محدود رہی ہے، تاہم دونوں طرف سے طویل فاصلے کے میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یوکرین نے بھی روسی علاقوں، کریمیا اور فوجی تنصیبات پر ڈرون حملوں کے دعوے کیے ہیں۔ کیف پر تازہ حملہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ سفارتی رابطوں کے باوجود جنگ کی شدت میں فوری کمی نہیں آئی اور شہری مراکز بدستور خطرے میں ہیں۔