واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے فضائی شعبے اور اس سے منسلک بین الاقوامی کاروباری نیٹ ورکس کے خلاف 36 نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق نئی کارروائی کا مقصد پہلے سے پابندیوں کی زد میں موجود مہان ایئر کے ساتھ دیگر ایرانی ایئرلائنز، بیرون ملک درمیانی کمپنیوں، کارگو ہینڈلرز اور ایسے نیٹ ورکس کو محدود کرنا ہے جن پر امریکی ساختہ طیاروں اور حساس ٹیکنالوجی کے حصول میں ایران کی مدد کا الزام ہے۔
محکمہ خزانہ نے کہا کہ پابندیوں کے تحت 27 ایرانی ایئرلائنز کو نامزد کیا گیا جبکہ ترکی، متحدہ عرب امارات، ملائیشیا اور قازقستان میں قائم بعض کمپنیوں اور افراد کو بھی فہرست میں شامل کیا گیا۔ واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ یہ نیٹ ورکس ایران کی ایئرلائنز کے لیے طیارے، پرزے، کارگو خدمات یا دوسری تکنیکی سہولتیں فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہے تھے۔ متعلقہ کمپنیوں یا ایرانی حکام کا فوری تفصیلی ردعمل رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔
امریکی دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے ایران سے متعلق تین فضائی اجازت نامے بھی معطل کر دیے۔ ان اجازتوں کے تحت بعض غیر امریکی ایئرلائنز کو امریکی ساختہ یا امریکی کنٹرول والے تجارتی طیارے ایران لے جانے اور مخصوص فضائی خدمات فراہم کرنے کی گنجائش حاصل تھی۔ سابق امریکی عہدیداروں اور پابندیوں کے ماہرین کے مطابق یہ قدم تہران کے دبئی، دوحہ اور استنبول جیسے علاقائی فضائی مراکز سے رابطوں پر عملی دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا کہ ایرانی ایئرلائنز کے ساتھ کاروبار کرنے والے غیر ملکی اداروں کو عالمی مالیاتی نظام تک رسائی کے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ نئی پابندیاں واشنگٹن کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں جسے امریکی حکومت ایران کی آمدن، نقل و حمل اور بیرونی تجارتی راستوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ امریکہ پہلے ہی ایران کے تیل، بحری تجارت اور بعض مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف پابندیاں سخت کر چکا ہے۔
یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ واشنگٹن ایران پر اپنے جوہری اور علاقائی پروگراموں کے لیے مالی و تکنیکی وسائل حاصل کرنے کا الزام لگاتا ہے، جبکہ ایران مسلسل کہتا آیا ہے کہ اس پر عائد پابندیاں غیر قانونی اور سیاسی دباؤ کا ذریعہ ہیں۔ تازہ امریکی فیصلے کے شہری ہوا بازی، مسافروں اور علاقائی فضائی رابطوں پر ممکنہ اثرات کے بارے میں بھی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، کیونکہ پابندیوں کا دائرہ اب صرف مخصوص کمپنیوں کے بجائے ایران کے وسیع فضائی شعبے تک پھیلایا جا رہا ہے۔




