لندن: برطانوی حکومت نے ایران کے خلاف مزید سخت پابندیوں کے نفاذ کے لیے نئی قانون سازی شائع کر دی ہے، جس کا مقصد تہران کے جوہری پروگرام اور اس سے وابستہ مالی و تجارتی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھانا ہے۔ رائٹرز کے مطابق مجوزہ اقدامات ایران کی برطانوی مالیاتی نظام تک رسائی محدود کریں گے، متعدد اشیا، ٹیکنالوجی اور خدمات پر تجارتی پابندیاں بڑھائیں گے اور مخصوص استثناؤں کے علاوہ ایرانی طیاروں کے برطانیہ میں اترنے پر پابندی عائد کریں گے۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون سازی ان پابندیوں کو دوبارہ فعال اور وسیع کرے گی جو 2015 کے ایران جوہری معاہدے کے تحت نرم کی گئی تھیں۔ لندن، پیرس اور برلن نے گزشتہ برس اقوام متحدہ کے نام نہاد اسنیپ بیک طریقہ کار کو فعال کیا تھا، جس کے نتیجے میں ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی سابق پابندیوں کی بحالی کا راستہ کھلا۔ برطانوی حکام کا موقف ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق بین الاقوامی خدشات دور کرنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کیے۔

برطانوی دفتر خارجہ کے وزیر اسٹیفن ڈوٹی نے پارلیمان کو تحریری بیان میں کہا کہ نئی قانون سازی ایران کی جوہری صلاحیتوں کو محدود کرنے کی کوششوں کو مضبوط کرے گی۔ ان کے مطابق ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کے 400 کلوگرام سے زیادہ ذخائر موجود ہیں، جبکہ ایران مسلسل کہتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ایرانی سفارت خانے کی جانب سے رائٹرز کو فوری ردعمل موصول نہیں ہوا۔

نئے قواعد کے تحت برطانوی حکومت کو ایران سے وابستہ جہازوں اور تجارتی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کے لیے بھی وسیع اختیارات حاصل ہوں گے۔ تاہم آذربائیجان کے شاہ دنیز گیس فیلڈ کے لیے استثنائی لائسنس برقرار رکھے جائیں گے کیونکہ اس منصوبے میں ایرانی حصہ موجود ہونے کے باوجود وہ یورپی توانائی منڈی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ برطانوی حکومت نے کہا کہ یہ استثنا امریکہ اور یورپی یونین کے ملتے جلتے انتظامات کے مطابق ہوگا۔

یہ قانون سازی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پہلے ہی فوجی تصادم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ فروری میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تھے، جن کے جواز میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات بھی بیان کیے گئے۔ تازہ برطانوی اقدام فوجی دباؤ کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی دباؤ بڑھانے کی وسیع مغربی حکمت عملی کا حصہ ہے، تاہم قانون سازی کو عملی نفاذ سے پہلے پارلیمانی منظوری درکار ہوگی۔