لاہور: انسانی حقوق کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) نے پاکستان کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں پہلے سے زیر تعلیم افغان طلبہ کو رسٹیکیٹ کرکے افغانستان واپس بھیجنے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔ کمیشن نے خبردار کیا کہ تعلیمی پالیسی کے طور پر لیا گیا یہ اقدام متاثرہ نوجوانوں کے لیے انسانی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے، خصوصاً ان افراد کے لیے جنہیں واپسی پر تحفظ سے متعلق خطرات لاحق ہوں۔

ایچ آر سی پی کے مطابق افغان طلبہ کے نئے داخلوں پر مبینہ پابندی کے ساتھ موجودہ طلبہ کی واپسی کے فیصلے نے ان کی تعلیم، حفاظت اور مستقبل کو فوری خطرے میں ڈال دیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ صرف لاہور میں تقریباً 100 افغان میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ متاثر ہو سکتے ہیں، جن میں اندازاً 20 سے 40 خواتین شامل ہیں۔ بعض طلبہ نے قانونی و ادارہ جاتی معاونت کے ساتھ محفوظ رہائش کے لیے بھی کمیشن سے رابطہ کیا ہے۔

حقوق کے ادارے نے حکومت سے عدم واپسی یا non-refoulement کے اصول کی پاسداری کا مطالبہ کیا، جس کے تحت کسی فرد کو ایسی جگہ واپس نہیں بھیجا جانا چاہیے جہاں اسے ظلم، تعاقب یا دیگر سنگین نقصان کا حقیقی خطرہ ہو۔ ایچ آر سی پی نے کہا کہ افغانستان واپس جانے والوں کے لیے خطرات کی دستاویزی مثالیں موجود ہیں اور خواتین خاص طور پر حقوق اور آزادیوں پر پابندیوں کے باعث زیادہ کمزور ہو سکتی ہیں۔

کمیشن نے زور دیا کہ کسی طالب علم کو انفرادی خطرے کا جائزہ لیے بغیر جبراً واپس نہ بھیجا جائے۔ ادارے نے پاکستان کی سلامتی سے متعلق تشویش اور افغانستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات کو تسلیم کیا، لیکن کہا کہ ان حالات کو ایسے طلبہ کو اجتماعی طور پر سزا دینے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا جو پاکستان میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

ایچ آر سی پی نے وطن واپسی کے احکامات فوری معطل کرنے، متاثرہ طلبہ کا تعلیمی اندراج بحال کرنے اور جن افراد کو تحفظ یا رہائش کی ضرورت ہو ان کے لیے انتظامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں حکومت کی جانب سے ان مطالبات پر حتمی ردعمل شامل نہیں، اس لیے پالیسی کی موجودہ قانونی حیثیت اور اس پر آئندہ عملدرآمد کا تعین متعلقہ حکام کے فیصلوں سے ہوگا۔