کراچی: سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے کاروباری شخصیت میر رضا علی کی موت کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کے سامنے گزشتہ سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ جاوید ڈیرو کے طرز عمل پر غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔ کمیشن کی سربراہی جسٹس عمر سیال کر رہے ہیں، جنہوں نے کہا کہ متوفی کے خاندان کا تحقیقات پر اعتماد پہلے ہی کم ہے اور گزشتہ سماعت کے واقعات نے صورت حال مزید خراب کی۔

میر رضا علی، جو آئی بی اے کے گریجویٹ اور کاروباری شخصیت تھے، 28 جولائی کو لاپتا ہونے کے اگلے روز کراچی کے گلستان جوہر میں مردہ پائے گئے تھے۔ ان کے والد مسلسل مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا اور وہ خودکشی کے امکان کو مسترد کرتے ہیں۔ موت کی حتمی نوعیت اور ذمہ داری کا تعین عدالتی کمیشن کی جاری تحقیقات کا موضوع ہے، اس لیے خاندان کے دعوے کو ابھی ثابت شدہ نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

گزشتہ سماعت میں ایڈووکیٹ جنرل کی مداخلت کے بعد کمیشن نے کارروائی معطل کرکے وزیر داخلہ کو نوٹس جاری کیا تھا۔ تازہ سماعت میں جسٹس عمر سیال نے کہا کہ کمیشن کا مقصد حقائق تک پہنچنا اور عوامی اعتماد بحال کرنا ہے۔ لنجار نے جواب دیا کہ سندھ حکومت کمیشن کے کام میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی اور جو شواہد، معاونت یا سرکاری ریکارڈ درکار ہوگا فراہم کیا جائے گا۔

خاندان کے وکیل جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ میر رضا کے کاروباری ساتھی احمد کی جانب سے بعض الزامات اور ان کے وکیل کی طرف سے کچھ انکشافات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے احمد کو دوبارہ کمیشن کے سامنے بلانے کی درخواست دینے کا ارادہ ظاہر کیا تاکہ وہ اپنا مؤقف ریکارڈ پر رکھ سکیں۔ کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کے شوکاز جواب پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے انہیں 15 ستمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا ہے۔

کمیشن نے سچل تھانے کے ایس ایچ او عدیل افضل، ہیڈ محرر ذیشان، پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید اور میڈیکل بورڈ کے چیئرمین پروفیسر نسیم کو 14 ستمبر کے لیے طلب کیا۔ پروفیسر نسیم بیرون ملک ہونے کے باعث ویڈیو لنک سے پیش ہوں گے۔ کمیشن کی کارروائی 14 ستمبر کو دوبارہ شروع ہوگی، جبکہ کسی فرد کے خلاف حتمی ذمہ داری یا جرم کا فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔