کراچی: ملیر کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان ساقی اور ان کے بھتیجے پر مبینہ تشدد اور غیر قانونی حبس کے مقدمے میں مرکزی ملزم سید محمد کنعان شاہ کو عبوری ضمانت دے دی ہے۔ عدالت نے 20 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے ملزم کو تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت کی۔

عدالت نے تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر طلب کیا اور ضمانت کی درخواست پر مزید کارروائی 21 ستمبر تک ملتوی کر دی۔ عبوری ضمانت کا مطلب مقدمے میں بریت یا الزامات کا ختم ہونا نہیں؛ پولیس کی تفتیش اور عدالت میں قانونی کارروائی جاری رہے گی اور الزامات کی حتمی حیثیت شواہد کی جانچ کے بعد طے ہوگی۔

مقدمہ صفورا چورنگی کے قریب پیش آنے والے ایک واقعے سے متعلق ہے۔ پولیس کے مطابق ڈاکٹر ساقی جس آن لائن ٹیکسی میں سفر کر رہے تھے اسے ان کے بھتیجے وحید الرحمٰن چلا رہے تھے۔ پروفیسر کے بیان کے مطابق ایک ڈبل کیبن گاڑی پارکنگ سے نکلتے ہوئے ٹیکسی سے ٹکرائی، جس پر انہوں نے گاڑی میں موجود افراد سے ٹیکسی ڈرائیور کو نقصان کا معاوضہ دینے کا کہا۔

ڈاکٹر ساقی نے پولیس کو الزام عائد کیا کہ اس کے بعد ہوٹل مالک کے بیٹے نے فائرنگ کی، انہیں پستول کے بٹ مارے اور مزید ہوائی فائرنگ کی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اور ان کے بھتیجے کو ایک ہوٹل لے جایا گیا جہاں ان پر تشدد کیا گیا۔ واقعے کی بعض ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی سامنے آئیں جن میں پروفیسر کے ساتھ مارپیٹ دکھائی دیتی ہے۔ ان الزامات کا فیصلہ عدالت میں ہونا باقی ہے اور ملزم کو قانونی طور پر اس وقت تک مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک جرم ثابت نہ ہو۔

سچل پولیس نے ڈاکٹر ساقی کی شکایت پر کنعان شاہ اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا، جس میں اقدام قتل، حملہ، جسمانی چوٹ اور غیر قانونی حبس سے متعلق دفعات شامل ہیں۔ پولیس نے ایک مقامی ہوٹل کے تین ملازمین کو بھی حراست میں لیا اور دیگر مطلوب افراد کی تلاش شروع کی۔ سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ایسٹ سے تفصیلی رپورٹ طلب کی اور اساتذہ کے تحفظ اور وقار کو یقینی بنانے کا اعلان کیا۔