اسلام آباد: دفتر خارجہ کے ترجمان سفیر سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کے عملی نفاذ کے لیے مزید وقت درکار ہوگا۔ ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان سے سوال کیا گیا تھا کہ اجتماعی دفاع کے معاہدے کے تحت سعودی عرب پر حملے کی صورت میں پاکستان اپنی ذمہ داریاں کس طرح پوری کرے گا۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستانی فوجی اس وقت سعودی عرب میں تربیتی اور لاجسٹک مقاصد کے لیے موجود ہیں، جبکہ دفاعی تعاون کے مزید عملی پہلو وقت کے ساتھ سامنے آئیں گے۔ انہوں نے فوری فوجی ردعمل کے کسی زیر بحث منصوبے کی تصدیق نہیں کی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ترجمان نے کہا کہ اس وقت ایسی کوئی کارروائی زیر غور نہیں، تاہم ضرورت آنے پر پاکستان معاہدے کے مطابق اقدام کرے گا۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے 7 اگست کو مکہ میں سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کی بنیادی شق کے مطابق کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ انتظام ایسے وقت میں سامنے آیا جب مشرق وسطیٰ میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع پہلے ہی خطے کی سلامتی اور توانائی کی ترسیل کو متاثر کر رہا تھا۔
حالیہ دنوں میں یمن کے حوثیوں نے جنوبی سعودی عرب کے شہروں اور توانائی کی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان نے ان حملوں کی مذمت کی ہے اور علاقائی کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے۔ رائٹرز نے سعودی، پاکستانی اور ایرانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسلام آباد نے تہران تک سعودی پیغام بھی پہنچایا کہ حوثیوں کو مزید حملوں سے روکا جائے؛ ایرانی مؤقف ہے کہ تہران حوثیوں کو کنٹرول نہیں کرتا۔
دفتر خارجہ کی تازہ وضاحت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ معاہدے کی اجتماعی دفاعی شق موجود ہونے کے باوجود کسی فوری پاکستانی جنگی کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ موجودہ صورت حال میں پاکستان کا سرکاری مؤقف معاہدے سے وابستگی، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون اور علاقائی بحران کو مزید پھیلنے سے روکنے کی سفارتی کوششوں پر مرکوز ہے۔




