لاہور/ملتان: ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، ایچ آر سی پی، نے ملتان میں 15 سالہ وسیم عباس کی ہلاکت اور مقدمے کے مرکزی ملزم توقیر نذیر کی بعد ازاں مبینہ پولیس مقابلے میں موت کے واقعات کی آزاد، شفاف اور قابل اعتماد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کے ادارے نے کہا ہے کہ دونوں واقعات کے حقائق سامنے لانا اور قانونی عمل کی پاسداری یقینی بنانا ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق وسیم عباس کو 19 اکتوبر کو ملتان کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کام سے متعلق تنازع کے بعد مبینہ طور پر گاڑی سے تعاقب کرکے کچلا گیا تھا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے توقیر نذیر کو گرفتار کیا اور اسے عدالت سے جسمانی ریمانڈ پر لیا گیا۔ نوجوان کی ہلاکت کے واقعے نے مقامی سطح پر شدید ردعمل پیدا کیا۔
بعد میں پولیس نے بتایا کہ زیرحراست ملزم توقیر نذیر اس وقت مارا گیا جب مبینہ طور پر اس کے ساتھیوں نے پولیس ٹیم پر فائرنگ کی۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ ملزم اپنے ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بنا۔ اس واقعے کے حالات پر سوالات اٹھنے کے بعد ایچ آر سی پی نے غیر جانب دار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ایچ آر سی پی نے اپنے بیان میں کہا کہ ماورائے عدالت ہلاکتیں قانونی عمل اور منصفانہ سماعت کے حق کے منافی ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر کسی ملزم پر سنگین جرم کا الزام بھی ہو تو جرم کا تعین عدالت میں شواہد اور باقاعدہ قانونی کارروائی کے ذریعے ہونا چاہیے۔ ادارے نے پولیس مقابلے کے سرکاری بیان کی آزادانہ جانچ پر زور دیا۔
یہ واضح رہنا ضروری ہے کہ پولیس مقابلے کو ماورائے عدالت قتل قرار دینا اس مرحلے پر ایچ آر سی پی کی تشویش اور تحقیقات کے مطالبے کا حصہ ہے؛ کسی آزاد عدالتی یا تفتیشی فورم نے ابھی حتمی طور پر یہ نتیجہ نہیں دیا کہ ملزم کو جان بوجھ کر غیر قانونی طور پر قتل کیا گیا۔ اسی طرح وسیم عباس کی ہلاکت کے مقدمے میں بھی فوجداری ذمہ داری کا حتمی تعین عدالت کے ذریعے ہونا تھا۔
ایچ آر سی پی کا مؤقف ہے کہ آزاد تحقیقات سے نہ صرف دونوں اموات کے حقائق سامنے آ سکتے ہیں بلکہ پولیس کارروائی پر عوامی اعتماد بھی بحال کیا جا سکتا ہے۔ ادارے نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ شواہد محفوظ کیے جائیں، واقعے میں شامل اہلکاروں اور گواہوں کے بیانات لیے جائیں اور نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں۔
