ویانا: بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے 35 رکنی بورڈ آف گورنرز نے ایران کو اس کی جوہری عدم پھیلاؤ ذمہ داریوں سے متعلق عدم تعمیل کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو رپورٹ کرنے کی قرارداد منظور کر لی ہے۔ سفارت کاروں کے مطابق تقریباً 20 سال میں پہلی مرتبہ ایران کو اس نوعیت کے معاملے پر سلامتی کونسل کے سامنے رپورٹ کیا گیا ہے۔

یہ اقدام گزشتہ سال 12 جون کو منظور کی گئی اس قرارداد کے بعد سامنے آیا جس میں ایران کو اپنی ذمہ داریوں کی عدم تعمیل کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔ اس سابقہ نتیجے کو سلامتی کونسل تک باضابطہ طور پر پہنچانے کے لیے ایک الگ قرارداد درکار تھی، جو اب بورڈ نے منظور کر لی ہے۔

ایران، روس اور چین نے مغربی ممالک کی حمایت یافتہ قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی کوئی قانونی بنیاد نہیں اور یہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کو نظر انداز کرتی ہے۔ تینوں ممالک کے مشترکہ مؤقف کے مطابق ایسے اقدامات تہران پر دباؤ بڑھاتے اور ایران و آئی اے ای اے کے درمیان تعاون کو کمزور کرتے ہیں۔ ایران کے آئی اے ای اے مشن نے قرارداد کو سیاسی اور غیر متفقہ قرار دیا۔

موجودہ تنازع کا ایک حصہ ان غیر اعلانیہ مقامات پر یورینیم کے ذرات سے متعلق ہے جن کی وضاحت کے لیے ایجنسی کئی برس سے ایران سے جواب مانگتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ فوجی حملوں کے بعد آئی اے ای اے کو متاثرہ ایرانی جوہری مقامات تک مکمل رسائی نہ ملنے اور افزودہ یورینیم کے ذخیرے کی موجودہ حالت کی تصدیق نہ ہونے پر بھی تشویش ہے۔

آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے بورڈ کو بتایا کہ ایجنسی کے پاس بعض تنصیبات اور متعلقہ جوہری مواد کے بارے میں معلومات کی کمی اور وہاں تصدیقی سرگرمیاں نہ کر سکنے کی صورتحال عدم پھیلاؤ کے حوالے سے سنگین تشویش کا باعث ہے۔ ایجنسی کے اندازے کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے قبل ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ 440.9 کلوگرام یورینیم موجود تھا، تاہم حملوں کے بعد باقی مقدار کے بارے میں مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔

سلامتی کونسل کو معاملہ بھیجے جانے کا مطلب خودکار طور پر نئی پابندیاں یا کسی مخصوص کارروائی کی منظوری نہیں۔ روس اور چین سلامتی کونسل کے مستقل اور ویٹو رکھنے والے ارکان ہیں اور انہوں نے موجودہ قرارداد کی مخالفت کی ہے۔ اس لیے اگلا مرحلہ سیاسی اور سفارتی مذاکرات، کونسل کی کارروائی اور ایران و آئی اے ای اے کے درمیان رسائی و تصدیق کے معاملات پر منحصر ہوگا۔