اسلام آباد: پاکستان نے دیگر عرب اور مسلم ممالک کے ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر برطانیہ کی پابندی کا خیرمقدم کیا ہے اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیوں کے خلاف عملی اقدامات کیے جائیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت آٹھ ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں امید ظاہر کی کہ بین الاقوامی برادری ایسے اقدامات کو آگے بڑھائے گی اور غیر قانونی بستیوں سے وابستہ تنظیموں اور افراد کے احتساب کے لیے مؤثر طریقہ اختیار کرے گی۔
برطانیہ نے فرانس اور کینیڈا کے ساتھ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں سے متعلق تجارتی اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اسرائیلی حکومت پر آبادکاروں کی کارروائیوں کے معاملے میں چشم پوشی کا الزام عائد کیا۔ اس کے علاوہ متعدد یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ نے بھی اسی نوعیت کے اقدامات کی حمایت یا ان پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
پاکستان اور دیگر ممالک کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 کے تناظر میں اہم ہے۔ بیان میں بین الاقوامی عدالت انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں ریاستوں کی ذمہ داریوں سے متعلق قانونی نکات بیان کیے گئے تھے۔
مشترکہ بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی اور آبادیاتی کردار میں تبدیلی سے متعلق آبادکاری کے اقدامات واپس لے۔ وزرائے خارجہ نے غزہ کو فلسطین کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔ پاکستان نے الگ بیان میں کہا کہ غیر قانونی بستیوں کی توسیع بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے اور اس سے دو ریاستی حل کی کوششیں متاثر ہوتی ہیں۔
اسرائیل نے برطانوی اقدامات کے ردعمل میں یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کی بندش سمیت جوابی اقدامات کا اعلان کیا۔ برطانوی حکومت نے اسرائیلی ردعمل کو نقصان دہ قرار دیا۔ پاکستان نے اس تنازع کے تناظر میں فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔




