اسلام آباد: پاکستان نے برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی مصنوعات پر پابندی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان نے اس اقدام کو فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی آبادکاری کے خلاف بین الاقوامی قانونی مؤقف کے تناظر میں اہم قرار دیا۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں غیر قانونی بستیوں کی مسلسل توسیع بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ پاکستانی بیان کے مطابق ایسی آبادکاری دو ریاستی حل کے حصول کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور خطے میں امن و استحکام کی راہ مزید مشکل بناتی ہے۔
پاکستان طویل عرصے سے فلسطینیوں کے حق خود ارادیت اور ایک قابل عمل، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا آیا ہے۔ موجودہ بیان میں بھی اسلام آباد نے مسئلہ فلسطین کے حل کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں سے جوڑا اور غیر قانونی آبادکاری کے خلاف اقدامات کی حمایت کی۔
برطانیہ کا فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں اور ان سے منسلک تجارتی سرگرمیوں پر بین الاقوامی سطح پر سیاسی اور قانونی بحث جاری ہے۔ پاکستان کے ردعمل میں توجہ اس نکتے پر رہی کہ آبادکاری کی توسیع نہ صرف زمینی حقائق تبدیل کرتی ہے بلکہ مستقبل کے کسی سیاسی تصفیے کے امکانات کو بھی متاثر کرتی ہے۔
دفتر خارجہ کے بیان کو پاکستان کی مشرق وسطیٰ سے متعلق جاری سفارتی پالیسی کا تسلسل سمجھا جا سکتا ہے، جس میں فلسطینی ریاست کے قیام اور اسرائیلی قبضے سے متعلق بین الاقوامی قانونی اصولوں پر زور دیا جاتا ہے۔ پاکستان نے برطانوی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے دیگر بین الاقوامی کوششوں کے لیے بھی قانونی ذمہ داریوں کی پاسداری کو بنیادی معیار قرار دیا۔
اس خبر میں برطانوی فیصلے اور پاکستان کے سرکاری ردعمل کو الگ الگ حیثیت میں بیان کرنا ضروری ہے: پابندی برطانیہ کا پالیسی اقدام ہے، جبکہ اس کی قانونی و سیاسی اہمیت کے بارے میں مذکورہ مؤقف پاکستان کی وزارت خارجہ کا سرکاری موقف ہے۔ مستقبل میں اس اقدام کے تجارتی یا سفارتی اثرات کا تعین برطانیہ کے عملی نفاذ اور دیگر ممالک کے ممکنہ اقدامات سے ہوگا۔




