انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی کے سینٹر فار بزنس اینڈ اکنامک ریسرچ نے اپنی سالانہ اشاعت ’The State of Pakistan’s Economy 2026–27: Stagnation to Sustainability‘ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے اجرا پر پالیسی سازوں، ماہرین، کاروباری رہنماؤں اور طلبہ نے پاکستان کی معاشی مشکلات اور پائیدار و جامع نمو کے راستوں پر گفتگو کی۔
رپورٹ کے مباحثے میں بینک آف پنجاب کے صدر و سی ای او ظفر مسعود نے کہا کہ میکرو اکنامک استحکام کا اصل فائدہ اسی وقت ہوگا جب اس کا اثر بہتر معیار زندگی، روزگار، مضبوط انسانی سرمایہ اور غربت میں کمی کی صورت میں سامنے آئے۔ یہ نکتہ پاکستان کی موجودہ پالیسی بحث میں اہم ہے کیونکہ کم مہنگائی یا بہتر ذخائر جیسے اشاریے گھرانوں کی روزمرہ حالت سے الگ نہیں رہ سکتے۔
سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی سی ای او نادیہ سیٹھ نے ایس ایم ای شعبے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ چھوٹے کاروبار پاکستان میں روزگار کا بڑا ذریعہ ہیں، مگر انہیں فنانس، ٹیکنالوجی، رسمی مارکیٹ اور ریگولیٹری سہولت تک محدود رسائی کا سامنا رہتا ہے۔
سالانہ معاشی رپورٹ حکومتی سرکاری اعداد کی جگہ نہیں لیتی بلکہ تحقیق اور پالیسی تجزیے کا آزاد علمی فریم ورک فراہم کرتی ہے۔ اس میں پیش کردہ سفارشات کو عملی پالیسی میں تبدیل کرنے کے لیے حکومت، نجی شعبے اور ترقیاتی اداروں کے الگ فیصلے درکار ہوں گے۔
پاکستان حالیہ عرصے میں مالی اور بیرونی استحکام کے متعدد اشاریوں میں بہتری دکھا رہا ہے، لیکن آبادی، روزگار، تعلیم اور پیداواری صلاحیت کے ساختی مسائل برقرار ہیں۔ رپورٹ کا مرکزی سوال یہی ہے کہ قلیل مدتی استحکام کو ایسی پائیدار نمو میں کیسے تبدیل کیا جائے جس کا فائدہ وسیع آبادی تک پہنچے۔




