وفاقی حکومت نے ملک میں گندم کی دستیابی اور قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے 10 لاکھ میٹرک ٹن تک گندم درآمد کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں گندم ذخائر کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو درآمدی عمل فوری شروع کرنے کی ہدایت کی۔

سرکاری فیصلے کے مطابق پہلے مرحلے میں 2 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کی جائے گی، جس کی ترسیل نومبر 2026 میں متوقع ہے۔ باقی مقدار ضرورت، مارکیٹ حالات اور حکومتی فیصلوں کے مطابق بعد کے مراحل میں منگوائی جا سکتی ہے۔

اسحاق ڈار نے پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن، پاسکو، کو صوبوں کو ان کے منظور شدہ کوٹے کے مطابق گندم فوری فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔ صوبائی حکومتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ادائیگی اور مختص گندم کی بروقت لفٹنگ یقینی بنائیں۔

حالیہ ہفتوں میں آٹے کی قیمتوں اور سرکاری گندم کے معیار پر مختلف علاقوں سے شکایات سامنے آئی ہیں۔ درآمد کا مقصد سپلائی بفر بڑھانا اور ذخیرہ اندوزی یا قلت کے باعث قیمت میں غیر معمولی اضافے کا خطرہ کم کرنا ہے، لیکن عالمی قیمت، فریٹ اور شرح مبادلہ درآمدی لاگت پر اثر ڈالیں گے۔

گندم درآمد کا فیصلہ مقامی کسانوں کے مفادات کے ساتھ بھی توازن چاہتا ہے۔ فصل کے وقت زیادہ درآمد مقامی قیمت پر دباؤ ڈال سکتی ہے، جبکہ قلت کے دوران تاخیر صارفین کو مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ حکومت نے اداروں کو قریبی رابطہ رکھنے اور مناسب دستیابی، مستحکم قیمت اور صارف ریلیف کو بنیادی ہدف قرار دیا ہے۔