وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کا مالی خسارہ 22 سال کی کم ترین سطح تک آ گیا ہے اور ملک نے مسلسل تین سال پرائمری سرپلس حاصل کیا ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میں ٹیکسیشن اور مالی پائیداری سے متعلق اعلیٰ سطحی مکالمے سے خطاب میں حکومتی مالی نظم کے اشاریے پیش کیے۔

پرائمری سرپلس سے مراد یہ ہے کہ سود کی ادائیگیوں کو الگ کرنے کے بعد حکومت کی آمدن اس کے بنیادی اخراجات سے زیادہ ہو۔ پاکستان جیسے بلند قرض والے ملک میں یہ اشاریہ اہم ہے کیونکہ قرض کے بوجھ کو مستحکم کرنے کے لیے بنیادی بجٹ توازن میں بہتری ضروری ہوتی ہے۔

وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 8.1 فیصد سے بڑھ کر 10.3 فیصد ہوا ہے۔ کم ٹیکس تناسب پاکستان کی دیرینہ ساختی کمزوری رہا ہے اور حکومت ٹیکس بیس بڑھانے، ڈیجیٹلائزیشن اور ایف بی آر اصلاحات کے ذریعے مزید محصولات حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مالی خسارے میں کمی مثبت پیش رفت ہے، لیکن اس کے معیار کا جائزہ یہ دیکھ کر بھی کیا جاتا ہے کہ اخراجات میں کمی کہاں ہوئی، ترقیاتی اور سماجی شعبوں پر کیا اثر پڑا اور محصولات کا اضافہ کس حد تک پائیدار ہے۔ بلند سودی ادائیگیاں اب بھی وفاقی بجٹ کا بڑا حصہ استعمال کرتی ہیں۔

اورنگزیب نے ساختی اصلاحات جاری رکھنے اور ماضی کے boom-and-bust چکر میں واپس نہ جانے کا عزم دہرایا۔ مالی پائیداری کا اگلا امتحان یہ ہوگا کہ حکومت کم خسارہ برقرار رکھتے ہوئے معاشی نمو، روزگار اور ضروری عوامی سرمایہ کاری کے لیے مناسب وسائل بھی فراہم کر سکے۔