اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں قدرتی ندی نالوں اور آبی گزرگاہوں پر تجاوزات کے معاملے پر کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی، چیف کمشنر اسلام آباد اور وزارت موسمیاتی تبدیلی سے جواب طلب کر لیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے ایڈووکیٹ قاسم اقبال کی جانب سے دائر عوامی مفاد کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کیے۔
درخواست گزار نے عدالت کی توجہ اس جانب دلائی کہ تجاوزات کے باعث اسلام آباد کی متعدد قدرتی آبی گزرگاہیں سکڑ رہی ہیں۔ وکیل کے مطابق شہر میں تقریباً ہر سال سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے اور ندی نالوں کی چوڑائی کم ہونے سے بارش کے پانی کا قدرتی بہاؤ متاثر ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں شہری سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ یہ مؤقف درخواست گزار کا ہے اور عدالت نے فی الحال متعلقہ اداروں سے جواب طلب کیا ہے؛ تجاوزات کی حتمی نوعیت اور ذمہ داری کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ یکم ستمبر کو ای الیون، کورال، غوری ٹاؤن اور چٹھہ بختاور سمیت بعض علاقوں میں سیلابی صورتحال رپورٹ ہوئی تھی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزار اسلام آباد کے تمام قدرتی نالوں اور آبی راستوں کے ساتھ تجاوزات کا جامع سروے چاہتا ہے۔ جواب میں وکیل نے سیٹلائٹ کی مدد سے سروے کرانے اور آبی گزرگاہوں پر قبضہ ثابت ہونے کی صورت میں کارروائی کی ہدایت دینے کی استدعا کی۔
جسٹس انعام امین منہاس نے چیف کمشنر، چیئرمین سی ڈی اے اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی، جس کے بعد سماعت ملتوی کر دی گئی۔ اس مرحلے پر عدالت نے کسی مخصوص تجاوز یا فریق کے خلاف حتمی حکم جاری نہیں کیا بلکہ اداروں کا مؤقف طلب کیا ہے۔
اسلام آباد میں تیز بارشوں کے دوران شہری سیلاب اور نکاسی آب کا مسئلہ شہری منصوبہ بندی، قدرتی نالوں کے تحفظ اور تعمیراتی نظم و ضبط سے جڑا ہوا ہے۔ مقدمے کی آئندہ سماعت میں متعلقہ اداروں کے جوابات سے یہ واضح ہونے کی توقع ہے کہ قدرتی آبی راستوں کی موجودہ حدود، مبینہ تجاوزات کی نشاندہی اور ممکنہ سروے یا انسدادی کارروائی کے لیے حکام کیا اقدامات تجویز کرتے ہیں۔




