راولپنڈی: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے وکیل اور انسانی حقوق کارکن ایمان مزاری اور ان کے شوہر وکیل ہادی علی چٹھہ کو سکیورٹی بریچ مقدمے میں دس دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔ جیو نیوز کے مطابق مقدمہ آبپارہ پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا اور اس کا تعلق اکتوبر 2024 میں ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے دورے کے دوران ریاستی امور میں مبینہ مداخلت اور سکیورٹی خطرہ پیدا کرنے کے الزامات سے تھا۔
عدالتی حکم کے مطابق دونوں ملزمان کو دفعہ 353 کے تحت دو سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ، دفعہ 186 کے تحت ایک سال قید اور مزید 50 ہزار روپے جرمانہ جبکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت دس سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ عدالت نے تمام سزائیں بیک وقت چلانے کا حکم دیا، جس کے نتیجے میں مجموعی قابلِ عمل قید دس سال بنتی ہے۔ عدالت نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 382 کا فائدہ بھی دیا، جس کے تحت زیر حراست گزارا گیا متعلقہ عرصہ سزا میں شمار کیا جاسکتا ہے۔
فیصلہ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے اڈیالہ جیل میں سنایا۔ استغاثہ نے مقدمے میں سات گواہ پیش کیے تھے۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر 7 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی گئی تھی، جبکہ مقدمہ 25 اکتوبر 2024 کو درج ہوا تھا۔ عدالتی کارروائی کے دوران سرکاری وکیل کو ملزمان کی نمائندگی کے لیے مقرر کیا گیا تھا اور استغاثہ کے گواہوں پر جرح بھی ہوئی۔
دفاعی وکیل ایمل مندوخیل نے فیصلہ مؤخر کرنے کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں متعلقہ درخواستیں زیر التوا ہیں اور ہائی کورٹ میں مقدمہ منتقل کرنے کی درخواست بھی موجود ہے۔ دفاع نے یہ قانونی اعتراض بھی اٹھایا کہ ان درخواستوں کے فیصلے سے پہلے انسداد دہشت گردی عدالت کو فیصلہ نہیں سنانا چاہیے۔ عدالت نے اس مؤقف کے باوجود فیصلہ جاری کیا۔ دفاع کے یہ نکات وکلا کے قانونی مؤقف ہیں اور سزا کے خلاف آئندہ اپیل یا اعلیٰ عدالت کی کارروائی الگ مرحلہ ہوگی۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ اس سے قبل بھی مختلف مقدمات میں قانونی کارروائی کا سامنا کر چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے خلاف مقدمات کو انسانی حقوق کے کام اور مفت قانونی خدمات کے ردعمل میں انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔ یہ ان کا دعویٰ ہے؛ موجودہ مقدمے میں انسداد دہشت گردی عدالت نے انہیں سزا سنائی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جوڑا جنوری سے حراست میں ہے۔ ایک دوسرے مقدمے میں سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق سنائی گئی سزائیں سپریم کورٹ نے ستمبر میں معطل کرتے ہوئے ضمانت دی تھی، تاہم بعد میں انہیں ایک الگ مقدمے میں دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ موجودہ دس سالہ سزا مخصوص سکیورٹی بریچ مقدمے سے متعلق ہے اور اسے دوسرے مقدمات یا زیر التوا اپیلوں کے حتمی نتیجے سے الگ سمجھا جانا چاہیے۔

