اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے سات ماہ کے وقفے کے بعد اپنے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ملاقات تقریباً 40 سے 45 منٹ جاری رہی اور اس دوران بنیادی توجہ عمران خان کے خلاف زیرِ سماعت مقدمات، عدالتی کارروائی اور آئندہ قانونی حکمتِ عملی پر رہی۔

پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے سلمان صفدر کے حوالے سے بتایا کہ وکیل شام تقریباً ساڑھے چار بجے جیل پہنچے۔ ان کے مطابق مقدمات کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث ملاقات کا دستیاب وقت قانونی امور پر تفصیلی مشاورت کے لیے ناکافی تھا۔ ملاقات کے موقع پر عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی موجود تھیں۔

پارٹی کے مطابق اس ملاقات میں سیاسی امور پر گفتگو نہیں کی گئی اور وکیل نے مختلف عدالتوں میں جاری کارروائی کی تفصیلات عمران خان کے سامنے رکھیں۔ عمران خان کی صحت سے متعلق معاملات بھی زیرِ بحث آئے، تاہم پارٹی کا کہنا ہے کہ ملاقات کا بنیادی مقصد قانونی مقدمات سے متعلق مشاورت تھا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے عمران خان کی رہائی کے لیے آئندہ لائحہ عمل طے کرنے کی غرض سے دو روز کے اندر دوبارہ اجلاس بلانے پر اتفاق کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پہلے اجلاس میں مختلف تنظیمی اور سیاسی معاملات پر اختلافِ رائے سامنے آیا اور رہائی کی حکمتِ عملی پر حتمی اتفاق نہ ہوسکا۔

پارٹی کے جاری کردہ بیان میں خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اور دیگر ارکان سے متعلق حراست اور کارروائیوں پر بھی اعتراضات کیے گئے۔ یہ پی ٹی آئی کے دعوے اور سیاسی مؤقف ہیں؛ متعلقہ سرکاری اداروں کا جواب رپورٹ میں شامل نہیں تھا، اس لیے انہیں تصدیق شدہ عدالتی نتیجے کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔

عمران خان کی قانونی ٹیم کی یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب متعدد مقدمات مختلف عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار متعلقہ عدالتوں کے احکامات، قانونی درخواستوں کے فیصلوں اور جیل میں ملاقاتوں کے انتظام سے متعلق حکام کے اقدامات پر ہوگا۔