اسلام آباد/کراچی: وفاقی حکومت نے سینئر بینکار عمران سرور کو نیشنل بینک آف پاکستان کا صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر تین سال کے لیے مقرر کردیا ہے۔ نیشنل بینک نے 3 ستمبر 2026 کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے نوٹس میں بتایا کہ تقرری فوری اثر سے کی گئی ہے، تاہم اس کا نفاذ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے فٹ اینڈ پراپر ٹیسٹ کی کلیئرنس سے مشروط ہوگا۔

پی ایس ایکس میں جمع کرائے گئے نوٹس کے مطابق فنانس ڈویژن نے نوٹیفکیشن نمبر F.No.1(9) Bkg-III/2022-696 جاری کیا۔ فنانس ڈویژن کی داخلی مالیاتی ونگ کی دستاویز میں وفاقی حکومت نے بینکس (نیشنلائزیشن) ایکٹ 1974 کی دفعہ 11(3)(a) کے تحت دستیاب اختیارات استعمال کرتے ہوئے عمران سرور کی تقرری کی۔ تین سالہ مدت کا آغاز تقرری کے مؤثر ہونے سے ہوگا، مگر ریگولیٹری جانچ مکمل ہونا لازمی شرط ہے۔

فٹ اینڈ پراپر ٹیسٹ بینک کے اعلیٰ انتظامی عہدے کے امیدوار کی اہلیت، تجربے، دیانت، مالی ساکھ اور ریگولیٹری موزونیت کا جائزہ ہوتا ہے۔ اس لیے حکومتی نوٹیفکیشن اور بینک کی اطلاع تقرری کا باضابطہ فیصلہ ہیں، لیکن اسٹیٹ بینک کی کلیئرنس کو محض رسمی یا پہلے سے طے شدہ نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ کلیئرنس سے متعلق حتمی حیثیت مرکزی بینک یا نیشنل بینک کی بعد کی باضابطہ اطلاع سے واضح ہوگی۔

عمران سرور اس سے پہلے یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ میں گروپ ایگزیکٹو برائے رسک اینڈ کریڈٹ پالیسی اور گروپ چیف رسک آفیسر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ اس سے قبل انہوں نے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف منڈیوں میں کارپوریٹ اور ادارہ جاتی بینکاری کی ذمہ داریاں انجام دیں۔ دستیاب پیشہ ورانہ معلومات کے مطابق انہیں کارپوریٹ، ادارہ جاتی و سرمایہ کاری بینکاری، کریڈٹ پالیسی اور رسک مینجمنٹ میں 27 سال سے زیادہ تجربہ حاصل ہے۔

انہوں نے اوہائیو ویسلیان یونیورسٹی سے بزنس اور اکاؤنٹنگ کی تعلیم حاصل کی اور پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری بھی حاصل کی۔ یہ پس منظر ایسے وقت میں اہم سمجھا جا رہا ہے جب بڑے سرکاری بینکوں کو کریڈٹ معیار، سرکاری لین دین، ریگولیٹری تعمیل، ڈیجیٹل خدمات، اثاثوں کے معیار اور کارپوریٹ گورننس جیسے متعدد شعبوں میں بیک وقت فیصلے کرنا ہوتے ہیں۔ تاہم ان کی آئندہ ترجیحات کے بارے میں کوئی مکمل باضابطہ پالیسی پروگرام تقرری کے نوٹس کے ساتھ جاری نہیں ہوا۔

نیشنل بینک کے سابق صدر و چیف ایگزیکٹو رحمت علی حسنی کی مدت 21 اگست 2026 کو مکمل ہوئی تھی۔ اس کے بعد بینک کے چیف فنانشل آفیسر عبدالوحدید سیٹھی کو عبوری صدر و چیف ایگزیکٹو کا چارج دیا گیا۔ عمران سرور کی تقرری مستقل قیادت کے خلا کو پُر کرنے کی جانب قدم ہے؛ عبوری انتظام کے خاتمے اور عملی چارج سنبھالنے کی مکمل تفصیل ریگولیٹری کلیئرنس اور بینک کی داخلی کارروائی سے وابستہ ہوگی۔

نیشنل بینک پاکستان کے بڑے سرکاری تجارتی بینکوں میں شامل ہے اور حکومتی خزانہ، پنشن، تجارتی فنانسنگ، ترسیلات اور ملک گیر شاخوں کے ذریعے وسیع خدمات فراہم کرتا ہے۔ نئے صدر کی کارکردگی کا جائزہ منافع کے ایک عدد سے زیادہ وسیع پیمانوں پر ہوگا، جن میں خراب قرضوں کی وصولی، سرمایہ کی مضبوطی، آپریشنل کارکردگی، ڈیجیٹل نظام، صارفین کی خدمت، شفافیت اور ریگولیٹری تعمیل شامل ہیں۔

موجودہ قابلِ تصدیق پیش رفت تقرری کا سرکاری نوٹیفکیشن اور پی ایس ایکس کو بینک کی اطلاع ہے۔ عمران سرور کے عملی چارج، اسٹیٹ بینک کی فٹ اینڈ پراپر کلیئرنس، انتظامی ٹیم میں ممکنہ تبدیلی یا نئی کاروباری حکمتِ عملی کے بارے میں صرف آئندہ باضابطہ اعلانات کو حتمی سمجھا جائے گا۔