نئی دہلی: بھارت میں ووٹر فہرستوں کی ملک گیر نظرثانی کے خلاف اتوار کو دارالحکومت نئی دہلی میں ہزاروں افراد نے احتجاج کیا۔ مظاہرے کی قیادت اپوزیشن جماعتوں نے کی اور شرکا نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ دہرایا۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کا عمل حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچا رہا ہے، تاہم الیکشن کمیشن اور بی جے پی دونوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق کانگریس رہنما راہول گاندھی کی قیادت میں مظاہرین نے وسطی نئی دہلی سے رام لیلا میدان کی طرف مارچ کیا۔ احتجاج گزشتہ ایک ماہ سے جاری اس سیاسی تنازعے کا حصہ ہے جس میں ووٹر فہرستوں سے نام نکالے جانے اور دوبارہ اندراج کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ نظرثانی کا مقصد فہرستوں کو درست بنانا اور وفات پا چکے، نقل شدہ یا غیرقانونی اندراجات ختم کرنا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ بڑے پیمانے پر نام نکالنے سے بعض کمزور اور اقلیتی برادریاں غیرمتناسب طور پر متاثر ہوئی ہیں۔ بھارتی میڈیا کے اعدادوشمار اور عدالتی درخواستوں میں اپوزیشن کی جانب سے پیش کردہ معلومات کے مطابق 13 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ نام انتخابی فہرستوں سے نکالے گئے ہیں۔ یہ اعدادوشمار سیاسی اور قانونی تنازعے کا حصہ ہیں؛ انتخابی حکام کہتے ہیں کہ اہل ووٹر دوبارہ شمولیت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی اس عمل پر تنقید کرتے ہوئے اسے ناقص قرار دیا ہے اور متاثرہ افراد کے ووٹ اور سرکاری خدمات تک رسائی کے حقوق کے بارے میں خدشات ظاہر کیے ہیں۔ دوسری جانب بی جے پی کے بعض رہنما ماضی میں یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ غیرقانونی تارکین وطن کے نام انتخابی فہرستوں میں شامل ہونے کے مسئلے کو حل کرنا ضروری ہے۔
موجودہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا ہے جب بھارت میں انتخابی اداروں کی غیرجانبداری اور ووٹر اندراج کے طریقہ کار پر سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ چونکہ اپوزیشن کے الزامات کو الیکشن کمیشن اور حکمران جماعت مسترد کرتے ہیں، اس لیے ووٹر فہرستوں میں مبینہ جانبداری کو ثابت شدہ حقیقت کے بجائے جاری سیاسی اور قانونی تنازعے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ آئندہ عدالتی کارروائی اور الیکشن کمیشن کے اقدامات اس تنازعے کی سمت متعین کرنے میں اہم ہوں گے۔

