کیف/ماسکو: روس کے رات بھر کے فضائی حملوں نے یوکرین کے چار علاقوں میں بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں لاکھوں گھر بجلی سے محروم ہوئے۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اتوار کو کہا کہ روس نے توانائی کے نظام کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا اور ان کے بقول ماسکو یوکرین کے پاس بیلسٹک میزائل روکنے والے دفاعی نظام کی محدود دستیابی سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔
یوکرینی حکام کے مطابق ہفتے کی شام سے روس نے مجموعی طور پر 433 ڈرونز داغے، جن میں سے 371 کو یوکرینی فضائی دفاع نے مار گرانے کا دعویٰ کیا۔ حملوں کے دوران کچھ ڈرونز اتوار کی صبح بھی فضا میں موجود تھے۔ جنگی حالات میں دونوں فریقوں کے فوری دعووں کی آزادانہ تصدیق ہر مقام پر ممکن نہیں ہوتی، اس لیے نقصانات اور مار گرائے گئے ہتھیاروں کے اعداد متعلقہ حکام سے منسوب ہیں۔
زیلنسکی نے یہ بھی کہا کہ یوکرین نے روس کے روستوف علاقے میں کامینسکی پلانٹ کو نشانہ بنایا، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہاں روسی میزائل تیار کیے جاتے ہیں۔ ماسکو نے اس مخصوص دعوے پر فوری تبصرہ نہیں کیا۔ دوسری جانب روس کے نزنی نووگوروڈ علاقے کے گورنر گلیب نکیتن نے ایک بڑے یوکرینی ڈرون حملے کے بعد ایک صنعتی تنصیب کو نمایاں نقصان پہنچنے کی اطلاع دی، تاہم انہوں نے متاثرہ مقام کی شناخت نہیں کی۔
روسی حکام نے شہریوں سے ایندھن کی گھبراہٹ میں خریداری نہ کرنے کی اپیل بھی کی۔ اس علاقے میں نورسی ریفائنری واقع ہے، لیکن حکام نے واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ نقصان اسی تنصیب کو پہنچا ہے، اس لیے متاثرہ صنعتی مقام کو ریفائنری قرار دینا فی الحال درست نہیں ہوگا۔ روسی وزارت دفاع نے رات بھر میں 235 یوکرینی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ تازہ حملے ایک ایسے وقت ہوئے جب روس کے زیر قبضہ اولیشکی کے قریب چھ روزہ مقامی جنگ بندی ختم ہو گئی۔ اس محدود وقفے نے انسانی امداد اور انخلا کی کچھ سرگرمیوں کے لیے راستہ فراہم کیا تھا، لیکن اس سے وسیع محاذ پر لڑائی میں کمی نہیں آئی۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے توانائی اور صنعتی اہداف پر حملوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
روس نے یوکرین پر ریفائنریوں کے خلاف حملے دوبارہ شروع کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات عالمی ایندھن منڈی کے عدم توازن کو بڑھا رہے ہیں۔ یوکرین کا مؤقف ہے کہ وہ توانائی کے اہداف پر مکمل جنگ بندی کی حمایت کرتا ہے مگر ماسکو اس پر آمادہ نہیں۔ ان متضاد دعووں کے درمیان تازہ حملے ظاہر کرتے ہیں کہ مقامی انسانی وقفوں کے باوجود توانائی کا بنیادی ڈھانچہ جنگ میں ایک اہم ہدف بنا ہوا ہے اور سرد موسم کے قریب آتے ہی شہری آبادی پر اس کے اثرات مزید اہم ہو سکتے ہیں۔
