واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ 150 سے زائد افغان تارکین وطن کو ملک بدر کرکے افغانستان واپس بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔ ڈان میں شائع ہونے والی اے ایف پی رپورٹ کے مطابق امریکی میڈیا نے تین نام ظاہر نہ کیے گئے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس مرحلے کی پہلی پرواز پیر تک روانہ ہو سکتی ہے اور واپسی کا عمل پاکستان کے ذریعے مکمل کیے جانے کا منصوبہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا افغانستان کے لیے براہ راست ملک بدری کا انتظام نہیں کر رہا، اس لیے متعلقہ افراد کو پاکستان پہنچانے کے بعد ان کی افغانستان منتقلی کی نگرانی پاکستانی حکام کے ذریعے کیے جانے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ تاہم رپورٹ میں پاکستانی حکومت کی جانب سے اس مخصوص انتظام کی الگ سرکاری تصدیق یا اس کے عملی طریقہ کار کی تفصیل شامل نہیں تھی، اس لیے اس پہلو کو امریکی حکام کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاع سمجھا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسی کے تسلسل میں سامنے آئی ہے۔ گزشتہ برس امریکا نے افغانستان سمیت متعدد ممالک کے شہریوں کے سفر پر پابندیاں عائد کی تھیں اور افغان شہریوں کے لیے ملک بدری سے متعلق بعض تحفظات ختم کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔ 2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد متعدد افغان شہری امریکا منتقل ہوئے تھے، جن میں ایسے افراد اور خاندان بھی شامل تھے جن کے امریکی فوج یا اداروں سے سابق روابط تھے۔

افغان ایویک نامی امدادی گروپ، جو امریکا کے سابق افغان اتحادیوں کی مدد کرتا ہے، نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر ملک بدر کیے جانے والوں میں ان افغانوں کے رشتہ دار بھی شامل ہیں جنہوں نے افغانستان میں امریکی فوج کی مدد کی تھی۔ تنظیم نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بعض افراد کی واپسی ان کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ یہ خطرے کا اندازہ ایک امدادی تنظیم کا مؤقف ہے اور ہر فرد کی قانونی و سکیورٹی صورتحال الگ ہو سکتی ہے۔

نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں تین امریکی حکام کے حوالے سے 150 سے زائد افراد کی تعداد اور ممکنہ پرواز کا ذکر کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ منصوبہ رپورٹنگ کے وقت عمل درآمد سے پہلے کے مرحلے میں تھا، اس لیے حتمی تعداد، روانگی کی تاریخ اور ہر فرد کی امیگریشن حیثیت میں تبدیلی ممکن ہے۔

اس معاملے کی اہمیت پاکستان کے لیے بھی ہے کیونکہ مجوزہ راستے میں پاکستان کو عبوری ملک کے طور پر استعمال کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ اگر منصوبہ اسی شکل میں آگے بڑھتا ہے تو امریکی، پاکستانی اور افغان حکام کے درمیان سفری دستاویزات، منتقلی اور سرحدی انتظام سے متعلق عملی رابطہ درکار ہوگا۔ فی الحال تصدیق شدہ خبر امریکی میڈیا میں رپورٹ ہونے والا منصوبہ ہے، نہ کہ تمام 150 سے زائد افراد کی مکمل ہو چکی ملک بدری۔