پیانگ یانگ: شمالی کوریا نے ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائلوں کے لیے تیار کیے گئے کلسٹر بم وارہیڈز کا تجربہ کیا ہے۔ ملک کے سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے مطابق ہفتے کو ہونے والی آزمائش کا مقصد وارہیڈ کی جنگی حالات سے مطابقت اور اس کی تباہ کن صلاحیت کا جائزہ لینا تھا۔ یہ تجربہ شمالی کوریا کی حالیہ ہتھیاروں کی متعدد مشقوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

کے سی این اے کے حوالے سے اے ایف پی اور ڈان کی رپورٹ میں کہا گیا کہ حکام نے تجربے کو ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائلوں پر نصب ہونے والے کلسٹر وارہیڈ کی کارکردگی جانچنے کی سرگرمی قرار دیا۔ شمالی کوریائی حکام کا دعویٰ ہے کہ زیادہ کثافت کی صورت میں یہ ہتھیار 12 سے 13 ہیکٹر کے ہدفی علاقے کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ دعویٰ شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع کا ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں پیش نہیں کی گئی۔

شمالی کوریا کی میزائل انتظامیہ کے سربراہ نے کہا کہ رواں سال کے اندر فوجی یونٹوں کو مختلف آپریشنل مقاصد اور اہداف کی نوعیت کے مطابق ایسے ہتھیار منتخب اور استعمال کرنے کی صلاحیت دی جائے گی۔ سرکاری میڈیا کی جاری کردہ تصاویر میں موبائل لانچر سے ایک پروجیکٹائل فائر ہوتے اور ایک جزیرے پر متعدد اثرات دکھائے گئے۔

یہ تجربہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب شمالی کوریا حالیہ عرصے میں حملہ آور ڈرونز، نئے پریسیژن گائیڈڈ ٹارپیڈو نظام اور درمیانے فاصلے کے ہائپرسونک میزائل سمیت مختلف ہتھیاروں کی آزمائش کر چکا ہے۔ جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی بھی برقرار ہے، خصوصاً دونوں کوریاؤں کی سخت سکیورٹی والی سرحد پر بارودی سرنگ کے دھماکے میں تین جنوبی کوریائی فوجیوں کے زخمی ہونے کے بعد ماحول مزید تناؤ کا شکار ہوا۔ شمالی کوریا نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن ہفتے کے تجربے میں موجود نہیں تھے، تاہم وہ اپریل میں بیلسٹک میزائل پر نصب کلسٹر بم وارہیڈ کے ایک سابق تجربے کی نگرانی کر چکے ہیں۔ موجودہ پیش رفت پیانگ یانگ کے اس وسیع پروگرام کا حصہ ہے جس میں مختلف میزائل اور روایتی ہتھیاروں کی جنگی صلاحیت کو بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے، جبکہ خطے میں اسلحہ اور سرحدی کشیدگی سے متعلق خدشات بدستور موجود ہیں۔