دوحہ: ایران کے مذاکرات کاروں اور قطر کے ثالثوں نے اتوار کو مسلسل تیسرے روز دوحہ میں بات چیت جاری رکھی، جس کا مقصد آٹھ ماہ سے جاری امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی قابلِ عمل سمجھوتے تک پہنچنا ہے۔ رائٹرز کے مطابق مذاکرات واشنگٹن کے ساتھ قطری حکام کے مسلسل رابطوں کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، جبکہ قطر کے نمائندوں نے جمعے کو تہران میں بھی ایرانی حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ مشاورت میں پیش رفت ہو رہی ہے اور تہران دفاع اور سفارت کاری، دونوں کے لیے تیار ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ زیر غور تجویز کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اس مرحلے پر مذاکرات کا جاری رہنا کسی معاہدے کی تصدیق نہیں اور فریقین کے درمیان اہم سیاسی اور سکیورٹی اختلافات بدستور موجود ہیں۔

رائٹرز نے الجزیرہ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ زیر غور تجویز کے تحت ممکنہ سمجھوتے کے دو روز کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا راستہ بن سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو عالمی تیل کی ترسیل میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن اس شق کی حتمی منظوری یا نفاذ کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، اس لیے مذاکرات کے نتائج پر تیل اور گیس کی منڈیوں کی گہری نظر ہے۔

بات چیت ایسے وقت ہو رہی ہے جب 3 نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد دوبارہ فوجی کشیدگی کے خدشات موجود ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا اور انہوں نے مذاکرات کو نتیجہ خیز قرار دیا، تاہم بعد کی ممکنہ فوجی کارروائی کا امکان مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق صدر نے مزید حملوں کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا اور ان کی ترجیح سفارتی حل ہے۔

دوسری جانب ایران کی اعلیٰ قیادت نے فوج کو تیاری برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے اور تہران نے خبردار کیا ہے کہ نئے حملے کی صورت میں خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کے خلاف جوابی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ان بیانات سے واضح ہے کہ سفارتی رابطوں کے ساتھ فوجی دباؤ بھی برقرار ہے، جس سے مذاکرات کا ماحول حساس بنا ہوا ہے۔

قطر اس تنازع میں رابطہ کار اور ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ موجودہ دور کی اہمیت یہ ہے کہ بات چیت مسلسل کئی روز سے جاری ہے اور ممکنہ جنگ بندی و توانائی ترسیل سے متعلق عملی نکات زیر بحث ہیں۔ تاہم جب تک فریقین باقاعدہ معاہدے کا اعلان نہ کریں، مذاکرات کو پیش رفت کے مرحلے میں ہی سمجھا جائے گا، نہ کہ جنگ کے خاتمے یا آبنائے ہرمز کے یقینی طور پر کھلنے کی تصدیق کے طور پر۔