جکارتہ/تانا توراجا: انڈونیشیا کے قومی انسانی حقوق کمیشن، کومناس ہام، نے صدر پرابوو سوبیانتو کے سرکاری مفت سکول کھانا پروگرام سے منسلک بیماری کے نئے واقعات کی پولیس تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق رواں ہفتے کم از کم تین بڑے جزائر کے مختلف علاقوں میں سرکاری کھانا کھانے کے بعد 2 ہزار سے زیادہ طلبہ اور اساتذہ بیمار ہوئے۔ تمام واقعات کی حتمی طبی وجہ اور ذمہ داری کا تعین ابھی تفتیش میں ہونا باقی ہے۔
کومناس ہام نے اپنے بیان میں محفوظ اور قابل استعمال خوراک تک رسائی کو انسانی حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ غذائی پروگرام کے لیے سخت صفائی اور حفظانِ صحت کے معیار ضروری ہیں۔ کمیشن نے قومی پولیس سے بیماری کے واقعات کی باضابطہ چھان بین کرنے اور نیشنل نیوٹریشن ایجنسی سے ان کچنوں کو عارضی طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا جنہیں موجودہ واقعات سے مبینہ طور پر جوڑا جا رہا ہے۔ کسی کچن کا نام رپورٹ میں حتمی طور پر قصوروار قرار نہیں دیا گیا۔
انڈونیشیا کی قومی پولیس نے رائٹرز کی درخواست پر فوری تبصرہ نہیں کیا۔ نیشنل نیوٹریشن ایجنسی، جو پروگرام کی نگرانی کرتی ہے، نے جمعہ کو مقررہ پریس کانفرنس کسی نئی تاریخ کے اعلان کے بغیر مؤخر کر دی۔ ایجنسی کے سربراہ سوداریونو نے ایک روز پہلے پارلیمانی سماعت میں کہا تھا کہ فوڈ پوائزننگ کے واقعات کو سنجیدگی سے نمٹایا جائے گا۔ یہ یقین دہانی تحقیقات یا ذمہ داری کے حتمی تعین کے برابر نہیں ہے۔
جنوبی سولاویسی کے تانا توراجا علاقے میں مقامی حکومت کے سربراہ زادراک تومبیگ کے مطابق جمعرات کو تقریباً 170 طلبہ اور اساتذہ مفت کھانا کھانے کے بعد بیمار ہوئے۔ اس سے پہلے وسطی جاوا، مشرقی جاوا اور مغربی سماٹرا کے مختلف مقامات پر ایک ہزار 700 سے زیادہ کیس رپورٹ ہو چکے تھے۔ مشرقی جاوا کے ایک اور علاقے میں مزید 256 طلبہ کے بیمار ہونے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔ چونکہ مختلف رپورٹوں کے اوقات اور مقامات الگ ہیں، مجموعی اعداد میں بعد کی نظرثانی ممکن ہے۔
ایک روز قبل وسطی جاوا کے لاسیم میں سکول پرنسپل نے بتایا تھا کہ 752 طلبہ اور 25 اساتذہ کو سرکاری کھانے کے بعد اسہال اور قے کی شکایت ہوئی۔ مقامی ڈاکٹر کے مطابق ان میں سے 15 افراد ہسپتال داخل ہوئے، جبکہ بیشتر کو گھر بھیج دیا گیا۔ پرنسپل نے کہا کہ کھانے میں شامل بعض مرغی کے ٹکڑے تقسیم سے پہلے غیر معمولی محسوس ہونے پر الگ کیے گئے تھے۔ یہ مشاہدات ممکنہ سبب کی طرف اشارہ کرتے ہیں، مگر لیبارٹری نتیجہ یا مکمل تفتیشی رپورٹ نہیں ہیں۔
مفت سکول کھانے کا پروگرام صدر پرابوو نے گزشتہ سال بچوں میں غذائی کمی کم کرنے اور کروڑوں طلبہ کو خوراک فراہم کرنے کے لیے شروع کیا تھا۔ بڑے قومی پروگرام میں ہزاروں کچن، خوراک کی تیاری، ذخیرہ، طویل فاصلے تک ترسیل اور سکول سطح پر تقسیم شامل ہے۔ کسی بھی مقام پر درجہ حرارت، صفائی یا وقت کی پابندی میں خرابی بیماری کا خطرہ بڑھا سکتی ہے، تاہم موجودہ ہر واقعے کی مخصوص وجہ الگ طبی اور انتظامی جانچ سے ہی طے ہو گی۔
پارلیمان کی صحت سے متعلق نگرانی کمیٹی کے رکن چارلس ہونورس نے کہا کہ یکم ستمبر تک پروگرام سے منسلک فوڈ پوائزننگ سے متاثر افراد کی تعداد 50 ہزار ہو چکی تھی۔ انہوں نے یہ عدد محکمہ صحت کے اعداد سے منسوب کیا اور بعض سابق واقعات میں کھانے کے نامناسب ذخیرے اور پکا ہوا کھانا دیر سے پہنچنے کو سبب بتایا۔ یہ ایک قانون ساز کا منسوب مجموعی دعویٰ ہے؛ اس کی تازہ، واقعہ وار سرکاری فہرست عوامی طور پر ساتھ جاری نہیں کی گئی۔
موجودہ پیش رفت میں تصدیق شدہ بات یہ ہے کہ ہزاروں طلبہ و اساتذہ کھانا کھانے کے بعد بیمار ہوئے، انسانی حقوق کمیشن نے پولیس تحقیقات اور متعلقہ کچن معطل کرنے کی سفارش کی، اور غذائیت ایجنسی نے معاملہ سنجیدگی سے لینے کا مؤقف اختیار کیا۔ ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ تمام کیس ایک ہی سبب، سپلائر یا انتظامی ناکامی سے پیدا ہوئے۔
تحقیقات کے اہم سوالات میں خوراک کے نمونوں کی لیبارٹری جانچ، تیاری اور تقسیم کے وقت، کولڈ چین، کچن لائسنس، عملے کی تربیت، متاثرہ افراد کے طبی نتائج اور نگران اداروں کی سابقہ معائنہ رپورٹس شامل ہوں گی۔ ان شواہد کے بعد ہی مجرمانہ غفلت، انتظامی خلاف ورزی یا کسی مخصوص آپریٹر کی ذمہ داری کا فیصلہ کیا جا سکے گا۔




