وزیراعظم شہباز شریف نے نیپال میں تباہ کن اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد پاکستان کی جانب سے ہنگامی امدادی سامان بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ تین ستمبر 2026 کو انہوں نے اسلام آباد میں نیپال کے سفارت خانے کا دورہ کیا، سانحے میں جان سے جانے والوں کی یاد میں کھولی گئی تعزیتی کتاب پر دستخط کیے اور نیپالی حکومت، عوام اور متاثرہ خاندانوں سے پاکستان کی ہمدردی کا اظہار کیا۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے نیپال کی سفیر ریتا دھیتال کو بتایا کہ پاکستان جاری تلاش، بچاؤ اور امدادی کارروائیوں کی معاونت کے لیے اسی ہفتے ہنگامی امداد روانہ کرے گا۔ بیان میں سامان کی نوعیت، مقدار، مالیت، فضائی یا زمینی راستے، روانگی کی حتمی تاریخ اور اسے وصول کرنے والے نیپالی ادارے کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ اس لیے یہ پیش رفت امداد بھیجنے کا سرکاری اعلان ہے، کھیپ کی روانگی یا وصولی کی تصدیق نہیں۔

وزیراعظم کے ساتھ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی، سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی سفارت خانے گئے۔ نیپالی سفیر نے ان کا استقبال کیا اور دوطرفہ تعاون کی موجودہ صورت حال پر بھی بریفنگ دی۔ سفیر نے پاکستانی قیادت کے اظہار یکجہتی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نیپالی عوام اس خیرسگالی کو یاد رکھیں گے۔

شہباز شریف نے تعزیتی پیغام میں متاثرہ خاندانوں کے لیے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور نیپال کی حکومت و عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی دہرائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی مؤقف ہے جو وہ پہلے نیپالی وزیراعظم بالیندر شاہ سے ٹیلی فون پر گفتگو میں بیان کرچکے ہیں۔ سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ نیپالی عوام اس آفت کے اثرات سے نکلنے میں کامیاب ہوں گے۔

نیپال میں حالیہ آفت نے پہاڑی اور دور دراز علاقوں میں امدادی رسائی کو مشکل بنایا ہے۔ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار نیپالی حکومت کی قیادت میں امدادی ردعمل کے لیے وسائل منظم کر رہے ہیں، جبکہ تلاش اور بچاؤ کے ساتھ رہائش، خوراک، صحت، صاف پانی اور تحفظ کی ضروریات سامنے آئی ہیں۔ نقصانات اور متاثرین کے اعداد مسلسل تبدیل ہوسکتے ہیں، اس لیے پاکستانی اعلان میں کوئی غیر مصدقہ جانی یا مالی تعداد شامل نہیں کی گئی۔

امدادی کھیپ کی افادیت اس بات پر منحصر ہوگی کہ اس کا مواد نیپال کی ترجیحی ضروریات سے کس حد تک مطابقت رکھتا ہے اور اسے متاثرہ علاقوں تک کتنی جلدی پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے لیے پاکستانی اداروں، نیپالی حکام اور ممکنہ طور پر قومی آفات سے نمٹنے والے اداروں کے درمیان لاجسٹک رابطہ درکار ہوگا۔ تاہم سرکاری اعلامیے نے ابھی کسی مخصوص پاکستانی ادارے، پرواز یا تقسیم کے منصوبے کا نام نہیں بتایا۔

پاکستان اور نیپال نے سرکاری بیان میں اپنے تعلقات کو دیرینہ اور دوستانہ قرار دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک نے ماضی میں مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور یہ تعاون جاری رہے گا۔ یہ سفارتی اظہار امدادی اعلان کا سیاسی پس منظر فراہم کرتا ہے، مگر عملی پیش رفت کی اگلی تصدیق سامان کی تیاری، روانگی، نیپال میں وصولی اور متاثرہ علاقوں میں تقسیم سے ہوگی۔

فی الحال تصدیق شدہ نتیجہ یہ ہے کہ وزیراعظم نے نیپال کے سفارت خانے میں تعزیت کے دوران اسی ہفتے ہنگامی امدادی سامان بھیجنے کا سرکاری اعلان کیا ہے۔ امداد کی مقدار اور ترسیل کی تفصیلات سامنے آنے تک یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ سامان روانہ ہوچکا یا متاثرین تک پہنچ گیا ہے۔