کھٹمنڈو: نیپال میں ریسکیو اہلکاروں نے اپر تریشولی 3A ہائیڈرو پاور اسٹیشن سے منسلک سرنگ سے دو کارکنوں کو زندہ نکال لیا ہے۔ سنجے ساہ اور کبیر مہارجن 26 اگست کو برف، چٹان اور مٹی کے شدید ریلے سے وادی متاثر ہونے کے بعد نو دن تک سرنگ میں پھنسے رہے۔ نیپالی حکام نے جمعہ، 4 ستمبر کو دونوں کے ریسکیو کی تصدیق کی اور انہیں علاج کے لیے دارالحکومت کھٹمنڈو کے فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا۔
بچائے گئے کارکنوں میں سنجے ساہ مکینیکل فورمین اور کبیر مہارجن مکینیکل سپروائزر ہیں۔ نیپالی حکام کی جاری کردہ ویڈیوز میں مہارجن کو زمین میں بنائے گئے راستے سے اوپر کھینچتے اور اسٹریچر پر منتقل کرتے دکھایا گیا، جبکہ ساہ کو ایک کارکن کی پشت پر باہر لایا گیا۔ طبی عملے نے موقع پر ساہ کو آکسیجن دی اور ابتدائی معائنہ کیا۔
فوجی ہسپتال کے ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ دونوں کارکن انتہائی نگہداشت میں ہیں اور ان کی حیاتیاتی علامات مستحکم ہیں۔ وزیر توانائی کے ایک معاون کے مطابق ساہ کی چوٹیں نازک نوعیت کی نہیں، جبکہ مہارجن اپنے ہاتھ اور ٹانگیں حرکت نہیں دے پا رہے تھے۔ یہ ابتدائی طبی معلومات ہیں اور ان کی حالت میں تبدیلی ممکن ہے؛ مکمل تشخیص اور بحالی کی مدت ہسپتال ہی طے کرے گا۔
سنجے ساہ نے ریسکیو کے بعد نیپالی حکام کے ساتھ شیئر کی گئی ویڈیو میں کہا کہ وہ کنٹرول روم میں تھے اور حادثے کی اطلاع ملنے پر ساتھیوں کو نکلنے کا کہا۔ ان کے مطابق انہوں نے دوسروں کو بچانے کی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے خود فوری طور پر جگہ نہیں چھوڑی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرنگ کے اندر ان کا تین یا چار دیگر افراد سے رابطہ رہا تھا اور ممکن ہے کچھ لوگ مزید اندر موجود ہوں۔ یہ ایک زندہ بچ جانے والے کا بیان ہے؛ مزید افراد کے زندہ ہونے کی آزاد یا سرکاری تصدیق ابھی نہیں ہوئی۔
حکام اور ریسکیو کارکنوں کا اندازہ ہے کہ 26 اگست کے واقعے نے دریائے تریشولی کے ساتھ واقع چھ پن بجلی منصوبوں کی سرنگوں میں کم از کم 900 افراد کو پھنسا دیا تھا۔ یہ ایک عملی تخمینہ ہے، حتمی گنتی نہیں۔ حادثے کے بعد مختلف سرنگوں سے محدود تعداد میں لوگ ابتدائی گھنٹوں میں نکلنے میں کامیاب ہوئے، مگر اپر تریشولی 3A سے ساہ اور مہارجن ان پن بجلی منصوبوں میں نو دن بعد زندہ نکالے جانے والے پہلے کارکن قرار دیے گئے ہیں۔
نیپالی فوج نے اسی مقام سے ایک لاش ملنے اور لانتانگ ہائیڈرو پاور اسٹیشن کی ایک سرنگ سے مزید دو لاشیں نکالنے کی اطلاع بھی دی۔ ان اموات کی شناخت اور تمام لاپتہ افراد کی مکمل فہرست الگ سرکاری عمل کا حصہ ہے۔ بڑے پیمانے پر تباہی کے باعث قومی سطح کے ہلاکت اور لاپتہ افراد کے اعداد مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں، اس لیے موجودہ رپورٹ کا مرکزی تصدیق شدہ واقعہ دو کارکنوں کا ریسکیو ہے۔
اپر تریشولی 3A کے اطراف تلاش و بچاؤ کی کارروائی نیپالی فوج اور پولیس کی قیادت میں جاری ہے۔ بھارت، جنوبی کوریا اور چین سے تعلق رکھنے والے ماہرین بھی تکنیکی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ سرنگوں میں پانی، ملبہ، ہوا کی کمی، غیر مستحکم ڈھانچہ اور محدود رسائی ریسکیو ٹیموں کے لیے بڑے خطرات ہیں، اس لیے ہر نئی پیش قدمی انجینئرنگ جانچ اور حفاظتی انتظام کے ساتھ کی جا رہی ہے۔
ماہر انجینئرز کا ایک رابطہ گروپ دور سے دستیاب نقشوں اور تکنیکی معلومات کے ذریعے ریسکیو اہلکاروں کی رہنمائی بھی کر رہا ہے۔ بھاری مشینری اور فضائی معاونت کے ساتھ سرنگ کے ممکنہ محفوظ حصوں تک پہنچنے کی کوشش جاری ہے۔ تاہم کسی مخصوص مقام پر زندہ فرد کی موجودگی صرف آواز، رابطے، سینسر یا براہ راست رسائی سے ثابت ہو سکتی ہے؛ امید اور تصدیق کو الگ رکھنا ضروری ہے۔
دو کارکنوں کا زندہ نکلنا نو دن سے جاری کارروائی میں اہم پیش رفت ہے، لیکن یہ باقی لاپتہ افراد کے انجام کا حتمی اشارہ نہیں۔ اگلے قابل تصدیق مراحل میں سرنگوں کی مکمل تلاش، پھنسے افراد کی شناخت، ریسکیو کیے گئے کارکنوں کی طبی پیش رفت اور حادثے کی وجہ و حفاظتی انتظامات کی سرکاری تحقیقات شامل ہوں گی۔




