سیول: جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے کہا ہے کہ حکومت آبنائے ہرمز میں آزاد جہاز رانی کی معاونت کے لیے عملی آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے اور ان میں فوجی اقدامات بھی شامل ہیں، تاہم کسی فورس یا اثاثے کی تعیناتی کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ یہ وضاحت جمعہ، 4 ستمبر کو ان میڈیا رپورٹوں کے بعد سامنے آئی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سیول سال کے اختتام سے پہلے فوجی وسائل بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔
ایک صدارتی عہدیدار نے صحافیوں کو بتایا کہ جنوبی کوریا بین الاقوامی برادری کے ساتھ آبنائے ہرمز میں عملی تعاون کے طریقوں پر طویل عرصے سے بات کرتا رہا ہے۔ عہدیدار نے فوجی اقدامات کو زیر غور امکانات میں شمار کیا، لیکن واضح کیا کہ “کچھ طے نہیں ہوا”۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو منظور شدہ تعیناتی، آپریشنل حکم یا جنگی شرکت نہیں سمجھا جا سکتا۔
جنوبی کوریا کے نشریاتی اداروں جے ٹی بی سی اور ایم بی سی نے رپورٹ کیا کہ زیر غور وسائل میں سمندری نگرانی کا طیارہ، لاجسٹک سپورٹ جہاز یا بارودی سرنگوں کی نشاندہی اور صفائی کرنے والا یونٹ شامل ہو سکتا ہے۔ انہی میڈیا رپورٹوں کے مطابق حکومت ممکنہ تعاون کے حجم اور نوعیت پر امریکا، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہی ہے اور پارلیمانی منظوری اسی ماہ طلب کی جا سکتی ہے۔ صدارتی دفتر نے ان مخصوص اثاثوں یا ٹائم لائن کی حتمی توثیق نہیں کی۔
صدارتی عہدیدار کے مطابق کسی فیصلے سے پہلے ملکی قانونی طریقۂ کار، قومی اسمبلی کی منظوری اور جزیرہ نما کوریا پر فوجی تیاری کی ضروریات کو دیکھنا ہو گا۔ جنوبی کوریائی قانون کے تحت بیرون ملک فوجی تعیناتی کے لیے قومی اسمبلی کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انتظامیہ کے اندر کسی آپشن کو ترجیح ملنے کے باوجود پارلیمان کی بحث اور منظوری کے بغیر اسے نافذ شدہ مشن نہیں کہا جا سکتا۔
صدر لی جے میونگ آئندہ ہفتے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے ملاقات کے دوران ہرمز سے متعلق آپشنز پر گفتگو کر سکتے ہیں۔ “کر سکتے ہیں” کا اظہار ممکنہ سفارتی ایجنڈے کی نشاندہی کرتا ہے؛ ملاقات میں کسی معاہدے، مشترکہ مشن یا فوجی وعدے کا اعلان پہلے سے یقینی نہیں۔
آبنائے ہرمز جنوبی کوریا کے لیے اہم توانائی راستہ ہے۔ رائٹرز کے مطابق گزشتہ سال ملک کی 61 فیصد خام تیل اور 54 فیصد نیفتھا درآمدات اسی آبی گزرگاہ کے ذریعے آئیں۔ اس انحصار کی وجہ سے جہاز رانی میں رکاوٹ، بارودی سرنگوں کا خطرہ یا علاقائی کشیدگی جنوبی کوریا کی توانائی رسد، شپنگ لاگت اور صنعت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ یہی اقتصادی مفاد ممکنہ تعاون کے حق میں پیش کیے جانے والے دلائل میں شامل ہے۔
دوسری جانب ملکی رائے عامہ میں بیرون ملک فوجی کردار پر احتیاط پائی جاتی ہے۔ مارچ میں گیلپ کوریا کے سروے میں 55 فیصد جواب دہندگان نے ہرمز میں جنوبی کوریائی جنگی جہاز بھیجنے کی مخالفت اور 30 فیصد نے حمایت کی تھی۔ یہ سروے کسی موجودہ پارلیمانی ووٹ کا متبادل نہیں اور ستمبر کی رائے میں تبدیلی بھی ممکن ہے، مگر حکومت کو سیاسی حساسیت کا اندازہ دیتا ہے۔
ماہرین نے ممکنہ نگرانی، لاجسٹک یا مائن کلیئرنس مشن کو براہ راست ایران کے خلاف جنگی کارروائی سے کم شدت کا تعاون قرار دیا ہے۔ تاہم کسی بھی فوجی موجودگی کے خطرات اس کے قواعدِ کار، کمانڈ ڈھانچے، دفاعی اختیارات، مقام اور مدت سے طے ہوں گے۔ یہ تفصیلات ابھی جاری نہیں ہوئیں، اس لیے مجوزہ کردار کو غیر جنگی یا جنگی حتمی درجہ دینا قبل از وقت ہے۔
اگر منظوری ملتی ہے تو یہ 2009 میں خلیج عدن میں انسداد قزاقی چیونگ ہی یونٹ کی تعیناتی کے بعد جزیرہ نما کوریا سے باہر سیول کا اہم سمندری مشن ہو سکتا ہے۔ لیکن اس مرحلے تک پہنچنے سے پہلے حکومت کو مقصد، فورس کی ساخت، اخراجات، مدت، خطرے اور واپسی کے ضابطے پارلیمان کے سامنے واضح کرنا ہوں گے۔
فی الحال تصدیق شدہ نتیجہ محدود ہے: جنوبی کوریا فوجی سمیت مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے، آزاد جہاز رانی کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں سے بات چیت ہوئی ہے، اور کسی تعیناتی کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اگلی قابل تصدیق پیش رفت کابینہ یا صدارتی منظوری، قومی اسمبلی میں باضابطہ تحریک اور مشن کی عملی تفصیل ہو گی۔




