سیول: جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آزاد جہاز رانی کی حمایت کے لیے فوجی سمیت مختلف ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم کسی تعیناتی یا مخصوص منصوبے پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ یہ وضاحت ان مقامی میڈیا رپورٹس کے بعد سامنے آئی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حکومت سال کے اختتام سے پہلے فوجی وسائل بھیجنے اور رواں ماہ قومی اسمبلی سے منظوری لینے کی تیاری کر رہی ہے۔ صدارتی دفتر نے اس دعوے کو طے شدہ حکومتی فیصلہ قرار دینے سے انکار کیا۔
ایک صدارتی اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ حکومت اس بات پر جامع غور کر رہی ہے کہ جنوبی کوریا آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے لیے عملی کردار کیسے ادا کر سکتا ہے۔ اہلکار کے مطابق فوجی تعاون کا مطلب لازماً جنگی دستے نہیں؛ غیر جنگی، تلاش اور معاونتی صلاحیتیں بھی ممکنہ آپشنز میں آ سکتی ہیں۔ جنوبی کوریائی میڈیا نے جن تجاویز کا ذکر کیا ان میں سمندری نگرانی کا طیارہ، لاجسٹک سپورٹ جہاز اور بارودی سرنگوں کی نشاندہی و صفائی کرنے والا یونٹ شامل ہیں، مگر حکومت نے ان میں سے کسی کو منظور شدہ منصوبہ قرار نہیں دیا۔
صدارتی دفتر نے کہا کہ کسی بھی اقدام سے پہلے جزیرہ نما کوریا میں ملکی دفاعی تیاری، داخلی قانونی تقاضوں اور پارلیمانی عمل کو دیکھا جائے گا۔ جنوبی کوریا کے قانون کے تحت بیرون ملک فوجی تعیناتی کے لیے قومی اسمبلی کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ اہلکار کے مطابق موجودہ بحث ابھی اس مرحلے تک نہیں پہنچی کہ حکومت پارلیمان سے باقاعدہ منظوری مانگے۔ اس لیے زیر غور آپشنز، ممکنہ تعیناتی اور منظور شدہ مشن کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔
رائٹرز کے مطابق سیول امریکا، برطانیہ اور فرانس سمیت شراکت دار ممالک کے ساتھ ممکنہ تعاون کے حجم اور نوعیت پر گفتگو کرتا رہا ہے۔ صدارتی اہلکار نے کہا کہ صدر لی جے میونگ اگلے ہفتے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے ملاقات میں اس موضوع پر بات کر سکتے ہیں، مگر یہ ممکنہ سفارتی ایجنڈا ہے، کسی اعلان شدہ تعیناتی کی تاریخ نہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں جنوبی کوریا سے آبنائے ہرمز کے معاملے پر زیادہ تعاون کا مطالبہ کیا تھا، جس سے سیول پر اتحادی دباؤ کی بحث بڑھی ہے۔
اس فیصلے کے معاشی اور عوامی پہلو بھی اہم ہیں۔ رائٹرز کے مطابق جنوبی کوریا نے گزشتہ سال اپنی خام تیل کی 61 فیصد اور نیفتھا کی 54 فیصد درآمدات کے لیے آبنائے ہرمز پر انحصار کیا۔ دوسری طرف مارچ کے گیلپ کوریا سروے میں 55 فیصد جواب دہندگان نے جنگی جہاز بھیجنے کی مخالفت اور 30 فیصد نے حمایت کی تھی۔ ان اعداد سے پالیسی پر موجود داخلی اختلاف کا اندازہ ہوتا ہے، مگر حتمی فیصلہ حکومت، قانون اور قومی اسمبلی کے آئینی عمل سے مشروط رہے گا۔ موجودہ تصدیق شدہ صورت حال یہی ہے کہ جائزہ جاری ہے اور تعیناتی طے نہیں ہوئی۔




