کراچی: پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی سرحدی آمدورفت میں رکاوٹ نے سیمنٹ کی برآمدی ترسیل کو متاثر کیا ہے، جس سے بلوچستان کے راستے ایرانی اور دیگر علاقائی منڈیوں تک سامان بھیجنے والے برآمد کنندگان کو تاخیر کا سامنا ہے۔ سیمنٹ بھاری اور نسبتاً کم قدر فی وزن والی مصنوعات میں شامل ہے، اس لیے زمینی راستے میں تعطل اس کی نقل و حمل کی لاگت اور برآمدی مسابقت پر فوری اثر ڈال سکتا ہے۔

پاکستانی سیمنٹ صنعت ملکی تعمیراتی طلب کے ساتھ برآمدی منڈیوں پر بھی انحصار کرتی ہے۔ زمینی سرحد کے ذریعے ہونے والی تجارت میں ٹرکوں اور کسٹمز کلیئرنس کا تسلسل ضروری ہوتا ہے۔ گزرگاہ بند یا محدود ہونے کی صورت میں تیار مال فیکٹریوں، گوداموں یا سرحدی علاقوں میں رک سکتا ہے، جس سے ورکنگ کیپیٹل اور لاجسٹکس دونوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔

ایران کے ساتھ تجارت صرف سیمنٹ تک محدود نہیں، تاہم تعمیراتی مواد کی ترسیل میں زمینی راستے کی اہمیت زیادہ ہے۔ متبادل سمندری یا طویل زمینی راستے ہر شپمنٹ کے لیے معاشی طور پر قابل عمل نہیں ہوتے، خاص طور پر جب منزل سرحد کے قریب ہو۔ اس لیے سرحدی انتظام میں مختصر رکاوٹ بھی برآمد کنندگان کے شیڈول اور خریداروں کے ساتھ طے شدہ ڈیلیوری پر اثر ڈال سکتی ہے۔

اس پیش رفت کے اثرات کا درست حجم سرحد کی بندش یا محدود فعالیت کی مدت، زیر التوا ٹرکوں کی تعداد اور متاثرہ برآمدی آرڈرز کے حجم پر منحصر ہوگا۔ اگر آمدورفت جلد معمول پر آتی ہے تو زیادہ تر اثر ترسیل میں تاخیر تک محدود رہ سکتا ہے، لیکن طویل تعطل کی صورت میں برآمدی حجم، قیمت اور نئے آرڈرز پر زیادہ نمایاں اثر پڑنے کا خطرہ ہے۔

پاکستانی صنعت کے لیے علاقائی زمینی تجارت زرمبادلہ اور پیداواری گنجائش کے استعمال کا ایک ذریعہ ہے۔ اسی لیے کاروباری حلقوں کے لیے سرحدی راستوں کی قابل پیش گوئی دستیابی، کسٹمز کے واضح طریقہ کار اور مال بردار گاڑیوں کی محفوظ نقل و حرکت اہم ہے۔ آنے والے دنوں میں سرحدی آپریشن اور سیمنٹ برآمدی اعداد و شمار سے معلوم ہوگا کہ موجودہ رکاوٹ عارضی لاجسٹک مسئلہ رہتی ہے یا صنعت کی برآمدی کارکردگی پر وسیع اثر ڈالتی ہے۔