قاہرہ/واشنگٹن: ایران اور امریکا کے درمیان چھ ماہ سے جاری جنگ میں سمندری محاذ پر کشیدگی تیزی سے بڑھی ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایران نے بدھ کو آبنائے ہرمز کے قریب 10 جہازوں پر حملوں کا دعویٰ کیا، جبکہ امریکا نے کہا کہ اس نے پانچ ایرانی آئل ٹینکر تباہ کیے ہیں۔ دونوں جانب سے یہ کارروائیاں گزشتہ چند دنوں میں فوجی، بحری اور توانائی کے اہداف پر بڑھتے حملوں کے سلسلے کا حصہ ہیں۔

ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا کہ سمندر میں اس کی کارروائیاں امریکی حملوں کے جواب میں کی گئیں۔ دوسری طرف امریکی فوج نے اپنے ٹینکر حملوں کو ان واقعات سے جوڑا جن میں، امریکی مؤقف کے مطابق، پاسداران انقلاب نے امریکی بحری جہازوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ جنگی حالات میں فریقین کے فوری دعوؤں کی آزادانہ تصدیق محدود ہو سکتی ہے، اس لیے حملوں کے مقاصد اور مکمل نقصان کے بارے میں سرکاری بیانات کو متعلقہ فریقوں کے دعووں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

رائٹرز کے مطابق کم از کم ایک بحری کارکن کی ہلاکت اور ایک کے لاپتہ ہونے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔ ایران نے اردن میں امریکی افواج کے زیر استعمال ایک اڈے پر بیلسٹک میزائل داغنے کا دعویٰ کیا، جبکہ رپورٹ کے مطابق بیشتر میزائل روک لیے گئے۔ اگست کے آخر سے دوبارہ شدت اختیار کرنے والی کارروائیوں نے اس نسبتاً پرسکون وقفے کو ختم کر دیا ہے جو اس سے پہلے تقریباً ایک ماہ جاری رہا تھا۔

کشیدگی کا فوری اثر عالمی توانائی منڈی پر بھی پڑا اور برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی، جو جولائی کے بعد پہلی بار اس سطح سے تجاوز تھا۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شامل ہے، اس لیے جہاز رانی میں خلل یا حملوں کا خدشہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی رسد کے بارے میں عالمی منڈی کی تشویش بڑھاتا ہے۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ مزید حملوں کی صورت میں اس کا ردعمل وسیع ہو سکتا ہے اور پاسداران انقلاب نے سمندر میں ایک نئے اور بڑے ممنوعہ علاقے کے نقشے جاری کرنے کی بات بھی کی، جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ ایرانی ساحل کے مشرقی حصے میں چابہار تک پھیل سکتا ہے۔ اس اعلان کی عملی حدود اور بین الاقوامی جہاز رانی پر اثرات آئندہ سرکاری تفصیلات سے واضح ہوں گے۔

اسی دوران یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے خطے میں ایک سے زیادہ محاذوں پر توانائی اور بحری سلامتی کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ موجودہ پیش رفت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ امریکا اور ایران کے براہ راست جوابی حملے اب تجارتی اور تیل بردار جہازوں کو زیادہ نمایاں طور پر متاثر کر رہے ہیں، جس سے جنگ کے معاشی اور انسانی اثرات مزید وسیع ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔