اسلام آباد: پاکستان نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف برطانیہ کی قیادت میں اعلان کردہ تجارتی پابندیوں اور متعلقہ اقدامات کا خیرمقدم کیا ہے۔ دفتر خارجہ نے 9 ستمبر کو جاری بیان میں کہا کہ غیر قانونی بستیوں کی مسلسل توسیع بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ سلامتی کونسل قراردادوں کی خلاف ورزی ہے اور اس سے قابلِ عمل دو ریاستی حل کے امکانات متاثر ہوتے ہیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے برطانیہ، کینیڈا اور فرانس کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی حمایت کی اور ان دیگر ممالک کے مشترکہ مؤقف کا بھی خیرمقدم کیا جو آبادکاری سے منسلک سرگرمیوں کے خلاف مزید اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ پاکستانی بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی توسیع اور اس سے متعلق سرگرمیوں کے لیے جوابدہی یقینی بنائی جائے۔

برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی بعض اشیا پر پابندی کے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے درمیان ایک نئے سفارتی تنازع کا سبب بنا، جبکہ اسرائیلی حکومت نے اسے مسترد کیا اور برطانوی اقدامات کے جواب میں سفارتی ردعمل دیا۔ پاکستان نے اس معاملے میں اپنا روایتی مؤقف دہراتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کی۔

بین الاقوامی سطح پر مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں کی قانونی حیثیت طویل عرصے سے تنازع کا مرکزی نکتہ ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور متعدد بین الاقوامی قانونی مؤقف میں ان بستیوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے، جبکہ اسرائیل اس تشریح کے بعض پہلوؤں سے اختلاف کرتا ہے۔ پاکستان کا تازہ بیان اسی بین الاقوامی قانونی فریم ورک کا حوالہ دیتے ہوئے آبادکاری روکنے اور سیاسی حل کی راہ کھولنے پر زور دیتا ہے۔

اسلام آباد نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے کا پائیدار حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ تازہ پابندیوں پر پاکستانی ردعمل ایسے وقت آیا ہے جب غزہ اور مغربی کنارے کی صورت حال کے باعث اسرائیل پر سفارتی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ آبادکاری کے خلاف عملی اقدامات کو دو ریاستی حل کے تحفظ اور فلسطینی شہریوں کے حقوق سے جوڑ کر دیکھا جانا چاہیے۔