اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ یمن میں جاری تنازع کے اثرات سعودی عرب تک پھیلنے اور مملکت کی سلامتی کو براہ راست خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدہ عملی طور پر فعال ہو سکتا ہے۔ ان کا بیان سعودی عرب میں حوثی حملوں کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں تیل کی تنصیبات سمیت متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

خواجہ آصف کے مطابق پاکستان معاہدے کی شرائط کا پابند ہے اور ضرورت پیش آنے پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔ انہوں نے اس امکان کو یمن کے تنازع کے ’اسپل اوور‘، یعنی جنگ کے اثرات سعودی حدود اور سلامتی تک پھیلنے، سے جوڑا۔ وزیر دفاع کا بیان کسی فوری پاکستانی فوجی تعیناتی یا کارروائی کا اعلان نہیں بلکہ معاہدے کے تحت ممکنہ ذمہ داریوں کی تشریح ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو مکہ دفاعی اتحاد کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق اس کا مقصد اجتماعی دفاع اور بازدار قوت کو مضبوط بنانا ہے اور اصولی طور پر کسی ایک رکن کے خلاف حملے کو تمام فریقوں کے لیے مشترکہ سلامتی کا معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم کسی مخصوص واقعے پر عملی ردعمل کی نوعیت سیاسی، فوجی اور قانونی مشاورت سے طے ہونا متوقع ہے۔

تازہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب میں تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ سعودی حکام اور علاقائی ذرائع کے مطابق حملوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ حوثیوں کے دعووں، حملوں کی مکمل نوعیت اور علاقائی فریقوں کے جوابی اقدامات سے متعلق معلومات تیزی سے بدل رہی ہیں، اس لیے ہر دعوے کو متعلقہ فریق سے منسوب کرنا ضروری ہے۔

پاکستان نے ماضی میں خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون برقرار رکھتے ہوئے علاقائی تنازعات میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی حمایت بھی کی ہے۔ خواجہ آصف کا تازہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نئے سہ فریقی معاہدے نے پاکستان کی رسمی دفاعی ذمہ داریوں کے بارے میں ایک اضافی فریم ورک پیدا کیا ہے۔ تاہم معاہدے کے تحت کسی عملی کارروائی کا فیصلہ سامنے آنے تک یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ پاکستان نے موجودہ بحران میں فوجی مداخلت کا فیصلہ کر لیا ہے۔