اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سعودی عرب میں حوثی حملوں کے بعد پاکستان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والا مکہ دفاعی اتحاد کسی رکن ملک کے خلاف بلااشتعال جارحیت کی صورت میں عملی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پاکستانی ٹیلی وژن سے گفتگو میں کہا کہ معاہدے کی بنیادی شق کے مطابق ایک رکن پر حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جاتا ہے اور ضرورت پڑنے پر پاکستان اپنے طے شدہ وعدوں کی پاسداری کرے گا۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں اور توانائی سے متعلق تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔ سعودی حکام کے مطابق ان واقعات میں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ بعد ازاں سعودی حمایت یافتہ فورسز کی جانب سے یمن میں جوابی کارروائیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جس سے خطے میں ایک وسیع تر تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

خواجہ آصف نے معاہدے کو جارحانہ کے بجائے دفاعی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد اجتماعی دفاع اور بازدار قوت کو مضبوط کرنا ہے۔ ان کے مطابق اگر یمن کا تنازع سعودی حدود تک پھیلتا ہے تو معاہدے کی متعلقہ شقیں قابلِ عمل ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے ساتھ ہی امید ظاہر کی کہ صورت حال قابو میں آ جائے گی اور فریقین کشیدگی بڑھانے کے بجائے سیاسی و سفارتی راستہ اختیار کریں گے۔

رائٹرز نے علاقائی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پاکستان نے ایران تک بھی یہ پیغام پہنچایا ہے کہ حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف مزید کارروائیوں سے روکا جائے۔ تہران براہِ راست کنٹرول کے دعووں کی تردید کرتا رہا ہے، اس لیے ایران اور حوثیوں کے تعلق سے متعلق ایسے دعووں کو متعلقہ فریقوں کے موقف کے ساتھ ہی دیکھا جانا چاہیے۔ پاکستان کی جانب سے سامنے آنے والا سرکاری مؤقف یہ ہے کہ سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کی حمایت کی جائے گی جبکہ کسی ممکنہ کردار کو دفاعی دائرے میں رکھا جائے گا۔

مکہ دفاعی اتحاد اگست میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان قائم کیا گیا تھا۔ حالیہ حملوں نے پہلی بار اس معاہدے کی اجتماعی دفاع والی شق کو ایک حقیقی علاقائی بحران کے تناظر میں نمایاں کر دیا ہے۔ اسلام آباد کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ ایک طرف اپنے دفاعی وعدوں کی پاسداری کرے اور دوسری طرف ایران سمیت علاقائی ممالک کے ساتھ رابطے برقرار رکھتے ہوئے تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے میں سفارتی کردار ادا کرے۔