اسلام آباد: پاکستان نے سات دیگر عرب اور مسلم ممالک کے ساتھ برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کا مؤقف ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی توسیع بین الاقوامی قانون کے منافی ہے اور ایک قابل عمل دو ریاستی حل کے امکانات کو کمزور کرتی ہے۔

برطانیہ نے اسرائیلی بستیوں سے متعلق تجارتی اقدامات کا اعلان ایسے وقت میں کیا ہے جب مغربی کنارے میں آبادکاری، زمین پر قبضے اور فلسطینی آبادی کے خلاف تشدد کے بارے میں بین الاقوامی تشویش بڑھ رہی ہے۔ برطانوی حکومت نے بستیوں سے آنے والی بعض مصنوعات کی درآمد پر پابندی اور متعلقہ تجارتی تعلقات محدود کرنے کے اقدامات کیے۔ کینیڈا اور فرانس نے بھی اسی وسیع سفارتی دباؤ کے تناظر میں اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان نے مشترکہ ردعمل میں فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی اپنی دیرینہ حمایت دہرائی۔ اسلام آباد مشرقی یروشلم کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے کے مؤقف کی حمایت کرتا ہے۔ دفتر خارجہ نے آبادکاری کو امن عمل کے لیے رکاوٹ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بین الاقوامی قانون کے نفاذ کے لیے مؤثر اقدامات کی اپیل کی۔

اسرائیل مغربی کنارے کی بستیوں سے متعلق بین الاقوامی تنقید اور پابندیوں کو مسترد کرتا رہا ہے اور مختلف اوقات میں سلامتی، تاریخی دعووں اور داخلی قانونی مؤقف کی بنیاد پر اپنے اقدامات کا دفاع کرتا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے اداروں اور بیشتر عالمی برادری کا مؤقف ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔ تازہ تجارتی اقدام اسی دیرینہ قانونی و سفارتی تنازع کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔

پاکستان کا خیرمقدم بذات خود نئی پاکستانی پابندی یا دوطرفہ تجارتی اقدام کا اعلان نہیں ہے، بلکہ برطانیہ اور دیگر ممالک کے فیصلے کی سفارتی حمایت ہے۔ اس پیش رفت کی عملی اہمیت اس بات پر منحصر ہو گی کہ متعلقہ حکومتیں درآمدی پابندیوں، کمپنیوں کی تعمیل اور بستیوں سے منسلک تجارت کی نگرانی کو کس طرح نافذ کرتی ہیں۔ پاکستان نے اسے فلسطینی حقوق کے تحفظ اور آبادکاری کے خلاف بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کی سمت ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔