اوسلو: ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم کو بدھ کو اوسلو میں سرکاری جنازے اور شاہی رسومات کے بعد سپرد خاک کر دیا گیا، جس کے ساتھ ان کے انتقال کے بعد جاری 13 روزہ قومی سوگ اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہوا۔ رائٹرز کے مطابق 89 سالہ ہیرالڈ نے تین دہائیوں سے زیادہ ناروے کے تخت پر گزارے اور ان کے جنازے میں عالمی رہنما، یورپی شاہی خاندانوں کے ارکان اور بڑی تعداد میں شہری شریک ہوئے۔

شاہی محل سے اوسلو کیتھیڈرل تک جنازے کا جلوس پیدل روانہ ہوا، جبکہ آکرشوس قلعے سے توپوں کی سلامی دی گئی۔ سڑکوں کے دونوں جانب ہزاروں افراد موجود تھے۔ کیتھیڈرل میں قومی سطح پر ایک منٹ کی خاموشی کے ساتھ مذہبی تقریب منعقد ہوئی، جس کی قیادت چرچ آف ناروے کے اعلیٰ مذہبی عہدیداروں نے کی۔ بعد میں بادشاہ ہیرالڈ کو آکرشوس قلعے کے شاہی مقبرے میں ان کے والدین کے قریب دفن کیا گیا۔

جنازے میں برطانیہ کے شہزادہ ولیم، جاپان کے ولی عہد، جرمنی، فرانس، فن لینڈ اور یوکرین سمیت متعدد ممالک کے رہنما اور نمائندے شریک ہوئے۔ امریکی حکومت کی نمائندگی انڈر سیکریٹری ایلیسن ہوکر نے کی۔ ناروے کی پولیس نے تقریب کی سکیورٹی کو اپنی تاریخ کی سب سے بڑی منصوبہ بند کارروائیوں میں سے ایک قرار دیا، جبکہ اسکول کے بچوں کو بھی جلوس دیکھنے کے لیے کلاسوں سے غیر حاضر رہنے کی اجازت دی گئی۔

ہیرالڈ پنجم 1991 میں اپنے والد اولاو پنجم کے بعد بادشاہ بنے تھے۔ انہیں ناروے کی جدید آئینی بادشاہت میں نسبتاً عوامی اور شمولیتی انداز کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے نے فوری طور پر تخت سنبھال کر بادشاہ ہاکون ہشتم کا لقب اختیار کیا۔ ناروے میں بادشاہت کا کردار بنیادی طور پر آئینی اور علامتی ہے، لیکن ادارہ اب بھی وسیع عوامی حمایت رکھتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق یکم ستمبر کو نشر ہونے والے ایک سروے میں 72 فیصد ناروے کے شہریوں نے بادشاہت کی حمایت کی، جبکہ 20 فیصد نے جمہوریہ یا کسی دوسرے نظام کو ترجیح دی۔ یہ ایک مخصوص سروے کا نتیجہ ہے اور اسے تمام شہریوں کی مستقل رائے نہیں سمجھا جا سکتا، تاہم یہ ہیرالڈ کے انتقال کے بعد شاہی ادارے کی موجودہ عوامی مقبولیت کا ایک پیمانہ فراہم کرتا ہے۔

سرکاری جنازے کے اختتام پر فوجی فضائی سلامی اور ملک بھر میں گرجا گھروں کی گھنٹیاں بجائی گئیں۔ ہیرالڈ کی تدفین کے ساتھ ناروے میں ایک طویل شاہی دور کا رسمی اختتام ہوا اور نئی بادشاہت، ہاکون ہشتم اور ملکہ میٹے مارٹ کی قیادت میں، مکمل طور پر سامنے آ گئی ہے۔