دبئی/واشنگٹن: ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ میں خلیج اور آبنائے ہرمز کے اطراف تیل بردار جہازوں اور فوجی اہداف پر بڑے پیمانے کی جوابی کارروائیوں نے علاقائی کشیدگی اور عالمی توانائی منڈی کے خدشات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ رائٹرز کی 9 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق ایران نے متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنایا اور اردن میں ایک امریکی اڈے کی جانب بیلسٹک میزائل داغے، جبکہ امریکا نے پانچ ایرانی آئل ٹینکروں کو ڈبو دینے کی کارروائی کی۔

رائٹرز کے مطابق تازہ بحری حملوں میں کم از کم ایک ملاح ہلاک ہوا اور ایک لاپتا ہے۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے محدود بحری زونز کو وسیع کرنے کا اعلان کیا اور مزید امریکی حملوں کی صورت میں سخت جواب دینے کی دھمکی دی۔ دوسری جانب امریکا نے ایرانی ٹینکروں کے خلاف کارروائی کو اپنے بحری جہازوں کو مبینہ ایرانی میزائل خطرے سے محفوظ رکھنے کے تناظر میں بیان کیا۔ فریقین کے فوجی دعوے جنگی حالات میں جاری بیانات پر مبنی ہیں اور ہر آپریشنل تفصیل کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں۔

ایران نے کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے قریب ٹینکروں پر حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی، جبکہ اردن میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے۔ رپورٹ کے مطابق اردن میں آنے والے حملوں کو روکے جانے کے باعث وہاں جانی نقصان نہیں ہوا۔ خلیج میں جہاز رانی کی سلامتی پر بڑھتے خطرات نے تیل کی ترسیل اور بیمہ و فریٹ لاگت کے بارے میں نئی تشویش پیدا کی ہے۔

عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی، جو اس بات کی علامت ہے کہ سرمایہ کار آبنائے ہرمز اور خلیجی برآمدی راستوں میں ممکنہ رکاوٹ کو سنجیدہ خطرہ سمجھ رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، اس لیے جہاز رانی میں بڑی رکاوٹ کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایشیا، یورپ اور دیگر درآمدی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

اسی وسیع علاقائی کشیدگی میں یمن کا محاذ بھی گرم ہوا ہے۔ رائٹرز کے مطابق حوثی حملوں میں سعودی شہروں اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے اور درجنوں افراد کے زخمی ہونے کے بعد سعودی عرب نے یمن میں اپنی فوجی کارروائیاں تیز کی ہیں۔ اس طرح ایران-امریکا جنگ کے ساتھ خلیجی بحری راستے اور یمن کا تنازع ایک دوسرے سے جڑے سلامتی اور توانائی کے خطرات پیدا کر رہے ہیں۔

موجودہ مرحلے میں سب سے اہم غیر یقینی عنصر یہ ہے کہ آیا فریقین بحری حملوں کا دائرہ مزید بڑھاتے ہیں یا سفارتی راستے سے کشیدگی محدود کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ تیل کی قیمت، بحری جہازوں کی نقل و حرکت اور خلیجی ریاستوں کی سکیورٹی صورتحال آنے والے دنوں میں اس بحران کے عالمی معاشی اثرات کی سمت متعین کریں گے۔