اسلام آباد: پاکستان نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی اہداف پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں سعودی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب کی علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کے لیے اپنی حمایت اور سعودی قیادت، حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا۔
پاکستانی بیان میں کہا گیا کہ ایسے حملے خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ اسلام آباد نے زخمی ہونے والے افراد کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی الگ بیان میں شہری اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی دہرائی۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق سعودی عرب کے اس جائز حق کی حمایت کرتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین، شہریوں اور رہائشیوں کے دفاع اور قومی اثاثوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے۔ پاکستان نے ساتھ ہی خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا مؤقف بھی بیان کیا۔
حملوں کے بارے میں مختلف علاقائی رپورٹس میں جانی نقصانات اور توانائی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ پاکستانی سرکاری بیان کا بنیادی نکتہ حملوں کی مذمت، سعودی خودمختاری کی حمایت اور دفاع کے قانونی حق کی توثیق ہے۔ حملوں کی ذمہ داری، عسکری تفصیلات اور میدان میں ہونے والے نقصانات سے متعلق دعووں کا جائزہ متعلقہ فریقوں اور آزاد ذرائع کی تصدیق کے ساتھ کیا جانا ضروری ہے۔
یہ سفارتی ردعمل مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے، جہاں توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں پر حملوں کے باعث علاقائی سلامتی کے ساتھ عالمی توانائی منڈیوں کے لیے بھی خدشات بڑھے ہیں۔ پاکستان نے اپنے بیان میں کسی نئی فوجی کارروائی کا اعلان نہیں کیا بلکہ سیاسی اور سفارتی سطح پر سعودی عرب کے دفاع، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی حمایت واضح کی ہے۔




