کراچی: کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو آن لائن ٹیکس نظام آئرس میں ایک تکنیکی مسئلے سے آگاہ کیا ہے جس کے باعث بیرون ملک رہنے کے بعد پاکستان واپس آ کر دوبارہ ٹیکس کے لحاظ سے مقیم بننے والے افراد اپنے ٹیکس سال 2026 کے گوشواروں میں درست ابتدائی دولت درج نہیں کر پا رہے۔ ایسوسی ایشن نے معاملہ ریٹرن جمع کرانے کی توسیع شدہ آخری تاریخ سے پہلے حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ٹیکس بار کے مطابق مسئلہ ویلتھ ریکنسیلی ایشن اسٹیٹمنٹ میں سامنے آتا ہے۔ آئرس نظام سابقہ جمع شدہ ویلتھ اسٹیٹمنٹ سے ابتدائی دولت کی رقم خودکار طور پر منتقل کرتا ہے اور متعلقہ صارف کو اسے تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ مسلسل ہر سال ریٹرن اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ جمع کرانے والے شخص کے لیے یہ طریقہ عموماً مسئلہ نہیں بنتا، لیکن کئی سال غیر مقیم رہنے کے بعد واپس آنے والے پاکستانی کے معاملے میں پرانا عدد موجودہ حقیقت کی درست عکاسی نہیں کرتا۔
ایسوسی ایشن کے مطابق غیر مقیم مدت کے دوران متعلقہ فرد پر ان برسوں کے لیے ویلتھ اسٹیٹمنٹ جمع کرانے کی وہی ذمہ داری نہیں ہوتی جو مقیم ٹیکس دہندہ پر عائد ہوتی ہے۔ جب وہ دوبارہ مقیم بنتا ہے تو موجودہ نظام آخری مقیم سال کی اختتامی دولت کو نئے سال کے ابتدائی بیلنس کے طور پر لے آتا ہے، جبکہ بیرون ملک قیام کے دوران اس کی مالی پوزیشن تبدیل ہو سکتی ہے۔ نتیجتاً موجودہ سال میں دولت کے اضافے یا کمی کی درست مصالحت دشوار ہو جاتی ہے۔
کراچی ٹیکس بار نے ایف بی آر کے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ آئرس کی validation تبدیل کی جائے تاکہ ایسے ٹیکس دہندگان مناسب ریکارڈ اور معلومات کی بنیاد پر درست ابتدائی ویلتھ بیلنس درج کر سکیں۔ ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ self-assessment نظام میں ٹیکس دہندہ کو قانون کے مطابق اپنی درست مالی پوزیشن ظاہر کرنے کی سہولت ملنی چاہیے اور سافٹ ویئر کی پابندی اسے غلط عدد قبول کرنے پر مجبور نہ کرے۔
معاملے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ ٹیکس سال 2026 کے ریٹرن جمع کرانے کی مدت پہلے ہی دو مرتبہ بڑھائی جا چکی ہے اور آخری مرحلے میں ایسے صارفین کے پاس تکنیکی خرابی دور ہونے کا انتظار کرنے کے لیے محدود وقت رہ گیا ہے۔ غلط یا نامکمل ویلتھ ریکنسیلی ایشن بعد میں قانونی اور تعمیلی سوالات پیدا کر سکتی ہے، جبکہ تاخیر سے فائلنگ پر filer status سے متعلق فوائد بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
ایسوسی ایشن نے فوری تکنیکی اصلاح پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ حل ہونے سے واپس آنے والے پاکستانی اپنے اصل ریکارڈ کے مطابق دولت کا آغاز اور سال کے دوران تبدیلی بیان کر سکیں گے۔ معاملہ ٹیکس انتظامیہ کے ڈیجیٹل نظام میں ایسے قواعد کی ضرورت بھی نمایاں کرتا ہے جو رہائشی حیثیت بدلنے والے ٹیکس دہندگان کے مختلف حالات کو درست طور پر سنبھال سکیں۔

