قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے اسلام آباد کی ماتحت عدلیہ کے ججوں کے لیے بین الصوبائی روٹیشن کا نظام متعارف کرانے کی اصولی منظوری دے دی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت کی قانونی برادری ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ایسا طریقۂ کار مانگ رہی تھی جس کے تحت اسلام آباد کے ضلعی عدالتی افسران کو بھی صوبوں کے درمیان تبادلوں اور پیشہ ورانہ روٹیشن کے مواقع میسر آسکیں۔
رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے مطالبہ اصولی طور پر قبول کیا ہے اور عملی نظام جلد متعارف کیے جانے کی توقع ہے۔ اصولی منظوری اور نافذ شدہ پالیسی میں فرق اہم ہے: ابھی روٹیشن کی مدت، اہلیت، رضامندی، سینیارٹی، خالی آسامیوں، تنخواہ و مراعات، رہائش اور انتظامی کنٹرول سے متعلق تفصیلی قواعد سامنے نہیں آئے۔ کسی مخصوص جج کے تبادلے یا تعیناتی کا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مئی 2026 میں ضلعی عدلیہ کے لیے یکساں تبادلہ اور روٹیشن پالیسی کا مطالبہ کیا تھا۔ بار کا مؤقف تھا کہ وفاقی دارالحکومت کے عدالتی افسران کو بھی دوسرے علاقوں میں کام کرنے کے مساوی مواقع ملنے چاہئیں تاکہ مختلف عدالتی نظاموں کا تجربہ، پیشہ ورانہ ہم آہنگی اور ادارہ جاتی توازن بہتر ہوسکے۔ اسلام آباد بار کونسل نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کی جانب سے مطالبہ قبول کیے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔
مجوزہ نظام پر ماتحت عدلیہ کے بعض افسران کی جانب سے خدشات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بار بار تبادلے عدالتی کام کے تسلسل، اہل خانہ، رہائش اور مقامی عدالتی انتظام پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ بعض افسران نے یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا کہ روٹیشن کے قواعد واضح اور محفوظ نہ ہوئے تو وکلا یا دوسرے حلقوں کی جانب سے ناپسندیدہ عدالتی فیصلوں کے بعد تبادلے کے لیے دباؤ پیدا ہوسکتا ہے۔ یہ خدشات متعلقہ افسران کی آرا ہیں، کسی ثابت شدہ مداخلت کی عدالتی finding نہیں۔
تفصیلی پالیسی تیار کرتے وقت عدالتی آزادی اور انتظامی شفافیت کے درمیان توازن بنیادی مسئلہ ہوگا۔ تبادلے کے قابلِ جانچ معیار، مقررہ مدت، خودکار یا رضاکارانہ روٹیشن، اپیل یا نمائندگی کا حق اور کسی بھی دباؤ سے تحفظ واضح کیے بغیر نظام تنازع پیدا کرسکتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ طے کرنا بھی ضروری ہوگا کہ میزبان ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے درمیان کارکردگی جانچ، نظم و ضبط اور ترقی کے معاملات کس طرح تقسیم ہوں گے۔
وفاقی دارالحکومت کی ضلعی عدلیہ آئینی طور پر صوبائی نظاموں سے الگ انتظامی شناخت رکھتی ہے، جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں عدالتی قواعد اور کام کا بوجھ مختلف ہوسکتا ہے۔ بین الصوبائی تجربہ عدالتی افسران کو متنوع مقدمات اور انتظامی طریقوں سے واقف کرا سکتا ہے، لیکن مقامی قوانین، زبان، مقدمات کے ریکارڈ اور زیر التوا کیسوں کے تسلسل کے لیے منتقلی کا مناسب عبوری بندوبست درکار ہوگا۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کی اصولی منظوری اور اسلام آباد کی قانونی برادری کا خیرمقدم ہے۔ روٹیشن کب شروع ہوگی، کن عدالتی افسران پر لاگو ہوگی اور تبادلوں کے تحفظات کیا ہوں گے، یہ امور مجاز عدالتی حکام کی جانب سے تفصیلی طریقۂ کار، نوٹیفکیشن اور انفرادی احکامات جاری ہونے کے بعد واضح ہوں گے۔




