رام اللہ: مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں ابو فلاح میں زیتون کی سالانہ فصل کے دوران درجنوں اسرائیلی آبادکاروں نے فلسطینی کاشت کاروں پر حملہ کیا، زیتون کے درخت جلائے اور پتھراؤ کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم دو افراد زخمی ہوئے۔ رائٹرز کے عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد تقریباً 80 تھی اور متعدد افراد نے سیاہ لباس اور نقاب پہن رکھے تھے۔
زخمیوں میں امریکی فوٹو جرنلسٹ ہیڈی لیوائن بھی شامل ہیں جو واشنگٹن پوسٹ کے لیے واقعے کی کوریج کر رہی تھیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق انہیں جسم پر زخم آئے، ایک پسلی ٹوٹی اور ہاتھ پر شدید چوٹ لگی جس کے لیے سرجری درکار تھی۔ اخبار کے ایگزیکٹو ایڈیٹر نے واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ اسے رپورٹس پر تشویش ہے اور وہ بیرون ملک کسی بھی امریکی شہری کو نقصان پہنچنے کے معاملے کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج اور بارڈر پولیس کے اہلکار حملے کے دوران علاقے میں پہنچے۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اہلکاروں نے حالات پر قابو پانے کے لیے انتباہی فائرنگ کی اور ایک ایسے شخص کی طرف فائر کیا جسے خطرہ سمجھا گیا۔ فوج نے شہریوں کے خلاف تشدد کو سنگین اور ناقابل قبول قرار دیا۔ تاہم عینی شاہدین کے مطابق فورسز کی آمد کے بعد بھی کچھ دیر تک جھڑپ اور تشدد جاری رہا۔
فلسطینی کاشت کاروں کے لیے زیتون کی فصل نہ صرف معاشی ذریعہ ہے بلکہ سماجی اور ثقافتی اہمیت بھی رکھتی ہے۔ اسرائیلی انسانی حقوق گروپ یش دین کے اعداد و شمار کے حوالے سے رائٹرز نے بتایا کہ ستمبر کے آخر میں فصل کا موسم شروع ہونے کے بعد آبادکاروں کے کم از کم 170 حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس تعداد کی نوعیت اور ہر واقعے کی قانونی حیثیت الگ الگ تحقیقات کا موضوع ہو سکتی ہے۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو زیادہ تر عالمی برادری بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھتی ہے، جبکہ اسرائیل اس تشریح سے اختلاف کرتا ہے۔ تازہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب علاقے میں آبادکاروں اور فلسطینی آبادی کے درمیان تشدد میں اضافے پر بین الاقوامی تشویش بڑھ رہی ہے۔
