واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن کی جاری مہم کے نتیجے میں ایران کی سمندری درآمدات اور برآمدات شدید طور پر محدود ہو گئی ہیں، جبکہ انسانی امداد کو استثنا دیا گیا ہے۔ انادولو ایجنسی کے مطابق امریکی کمانڈر نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ کارروائی کا مقصد ایرانی تیل کی آمدن محدود کرنا، ڈیجیٹل مالی ذرائع میں خلل ڈالنا اور ایرانی سکیورٹی اداروں کی مالی صلاحیت کم کرنا ہے۔

کوپر کے مطابق امریکی اقدامات نے حالیہ مہینوں میں ایران کو کم از کم 25 ارب ڈالر مالیت کا خام تیل برآمد کرنے سے روکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکی اداروں کے تعاون سے تقریباً 35 کروڑ ڈالر کے ڈیجیٹل یا کرپٹو اثاثے منجمد کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار امریکی فوجی کمانڈر کے دعوے ہیں؛ رپورٹ میں ایران کی جانب سے ان مخصوص اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق یا قبولیت شامل نہیں، اس لیے انہیں امریکی مؤقف کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

امریکی کمانڈر نے کہا کہ ایران سے منسلک علاقائی گروہوں اور پاسدارانِ انقلاب کی مالی حالت پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ واشنگٹن ایران پر تیل کی آمدن کو عسکری سرگرمیوں اور اتحادی گروہوں کی مالی مدد کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگاتا ہے، جبکہ تہران ماضی میں امریکی پابندیوں اور عسکری دباؤ کو غیر قانونی اور سیاسی دباؤ کی پالیسی قرار دیتا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز سے متعلق کوپر نے کہا کہ تجارتی جہاز رانی جاری ہے اور گزشتہ سات روز میں تقریباً 400 تجارتی جہاز گزرے۔ ان کے مطابق امریکی فورسز نے خلیجی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اسی مدت میں 10 کروڑ بیرل سے زیادہ خام تیل کی نقل و حمل میں معاونت کی۔ دوسری طرف خطے میں بحری حملوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات کے باعث عالمی منڈیوں میں رسد اور قیمتوں سے متعلق تشویش برقرار ہے۔

یہ پیش رفت ایران کے خلاف امریکی معاشی و عسکری دباؤ کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر سمندری تجارت پر یہ پابندیاں طویل عرصے تک برقرار رہتی ہیں تو ان کے اثرات ایرانی معیشت کے ساتھ ساتھ خلیجی جہاز رانی، توانائی کی عالمی رسد اور خطے کی کشیدگی پر بھی پڑ سکتے ہیں، تاہم ان نتائج کی شدت کا انحصار عملی نفاذ اور ایران کے ردعمل پر ہوگا۔